نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

August 25, 2026

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

August 25, 2026

آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں عہدوں پر واضح اکثریت سے کامیاب۔

August 25, 2026

علی وزیر کے خلاف مختلف اضلاع میں درج مقدمات پر قانونی مؤقف سامنے آیا ہے کہ ایف آئی آر تحقیقات کا ابتدائی مرحلہ ہے جبکہ حتمی فیصلہ شواہد کی بنیاد پر عدالتیں کریں گی۔

August 25, 2026

افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی، علاقائی سلامتی کو سنگین خطرات

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔
افغانستان میں عسکریت پسند گروہ

افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور خطے کی سلامتی کو درپیش خطرات سے متعلق ساؤتھ ایشیا جرنل کی رپورٹ۔

August 25, 2026

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی جریدے ساؤتھ ایشیا جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف گروہ بدستور سرگرم ہیں اور بعض گروہوں کو اسلحے، تربیت اور سہولت کاری کے ایسے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل ہے جو خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان متعدد مرتبہ افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں اور فتنہ الخوارج کی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی مختلف رپورٹس میں بھی افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے خطے میں دہشتگردی کے خطرے پر عالمی توجہ مزید مرکوز ہوئی ہے۔

ساؤتھ ایشیا جرنل کے مطابق افغانستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ ملک میں سرمایہ کاری اور علاقائی معاشی انضمام کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ افغانستان میں قائم مستقل پناہ گاہیں پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھانے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

افغان نیشنل ریزسٹینس فرنٹ کے سربراہ احمد مسعود بھی ماضی میں افغانستان میں مختلف دہشتگرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ طالبان حکومت اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں موجود مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو کس حد تک روکنے میں کامیاب رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں مختلف شدت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ باہمی روابط خطے میں دہشتگردی کے خطرات کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت پڑوسی ممالک مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

دیکھیے: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، زیباک میں شدید جھڑپ، متعدد ہلاکتیں

متعلقہ مضامین

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

August 25, 2026

آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر دونوں عہدوں پر واضح اکثریت سے کامیاب۔

August 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *