"> سوویت شکست میں پاکستان کا کردار، ملا منصور کا بیان
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سوویت جنگ میں پاکستان کا کردار نظرانداز، ملا عبداللطیف منصور کا بیانیہ حقائق کے منافی قرار

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔
سوویت جنگ میں پاکستان کا کردار نظرانداز، ملا عبداللطیف منصور

افغان وزیر کے بیان پر ردِعمل، سوویت شکست میں پاکستان کے کردار کو نظرانداز کرنا تاریخی حقائق سے انحراف قرار دیا گیا۔

August 25, 2026

افغان حکومت کے وزیر برائے پانی و توانائی ملا عبداللطیف منصور کی جانب سے پاکستان کو روس اور امریکہ جیسی بیرونی قابض طاقتوں سے تشبیہ دینے پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ دفاعی و تاریخی ماہرین نے افغان وزیر کے اس بیانیے کو تاریخ کے طے شدہ حقائق سے انحراف قرار دیا ہے۔

افغان حکومت کے وزیر ملا عبداللطیف منصور نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ افغان قوم نے جس طرح ماضی میں برطانیہ، سوویت یونین (روس) اور امریکہ کا غرور خاک میں ملایا، اسی طرح وہ کسی بھی دوسرے ملک کے سامنے جھکنے والے نہیں۔

https://twitter.com/Hurriyat_Urdu/status/2092214534752883036?s=20

پاکستان کا محوری کردار

تاریخی حقائق کے مطابق سوویت یونین کے خلاف افغان قوم کی مزاحمت اپنی جگہ مسلّم ہے، لیکن پاکستان کے تزویراتی، لاجسٹک اور سفارتی کردار کے بغیر اس مزاحمت کی کامیابی کی کہانی نامکمل رہتی ہے۔

سوویت یونین کو افغانستان میں جس فیصلہ کن مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اس کی بنیاد پاکستان کی سرزمین، سیاسی معاونت اور پاکستانی عوام کی بے لوث قربانیاں تھیں۔ پاکستان اس پورے معرکے میں افغان مزاحمت کا بنیادی سہولت کار اور سب سے بڑا پشت پناہ تھا۔

پاکستان نے نہ صرف افغان مزاحمت کو علاقائی گہرائی اور رسد کا نظام فراہم کیا بلکہ دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر پناہ دی، جس کا بوجھ پاکستان کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے نے برداشت کیا۔

اس جنگ کے اثرات خود پاکستان کے شہروں، قبائلی علاقوں اور سیکیورٹی فورسز تک پہنچے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار سرحد پار سے پھیلنے والی بدامنی اور دہشت گردی کی زد میں آ کر شہید ہوئے، تاہم پاکستان نے افغان بھائیوں کی مدد جاری رکھی۔

حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان قیادت کی جانب سے آج اس تاریخ کو یکسر نظر انداز کر کے پاکستان کو کسی بیرونی غاصب کے برابر کھڑا کرنا تاریخ کے ساتھ بدترین ناانصافی ہے۔ پاکستان نے افغانستان پر کبھی قبضہ نہیں کیا، بلکہ اس جنگ کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔

اگر افغان قیادت اپنی تاریخ اور مزاحمت پر فخر کرتی ہے تو اسے یہ سچائی بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اس کی کامیابی کے پیچھے پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

کابل کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان سے تعلقات کا استوار ہونا باہمی احترام اور تاریخی حقائق کی پاسداری پر منحصر ہے۔ ماضی کی قربانیوں کو تسلیم کرنا اور یکطرفہ بیانیے سے گریزاِں رہنا ہی دونوں ممالک کے پائیدار اور برابری پر مبنی تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔

دیکھیے: طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، زیباک میں شدید جھڑپ، متعدد ہلاکتیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *