ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

August 25, 2026

ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

August 25, 2026

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

August 25, 2026

ہری پور میں مبینہ زیادتی کے بعد قتل ہونے والی 5 سالہ آیت نور کی نمازِ جنازہ ادا، صوبائی حکومت کی ترجیحات پر شدید تنقید۔

August 25, 2026

ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد جہاد نہیں، بغاوت ہے: 1,800 علماء کا متفقہ فتویٰ

ملک بھر کے 1,800 علماء کی تائید سے جاری پیغامِ پاکستان فتوے نے خوارجی فکر، خودکش حملوں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو صریحاً حرام اور قرآن و سنت کے خلاف قرار دے دیا ہے۔
ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد جہاد نہیں، بغاوت ہے

تمام مکاتبِ فکر کے 1,800 علماء کے متفقہ پیغامِ پاکستان فتوے کی روشنی میں خوارج کے نظریات، خودکش حملوں، تکفیر اور ریاست کے خلاف عسکریت پسندی کا مکمل شرعی و آئینی جائزہ۔

August 25, 2026

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا میں امن، سلامتی، اور انسانی جان و مال کا تحفظ قائم کرنا ہے۔ قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کے مطابق اسلامی معاشرے میں باہمی اخوت، عدل اور قانون کی حاکمیت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تاہم تاریخِ اسلام میں مختلف ادوار کی طرح موجودہ دور میں بھی چند گروہوں نے مذہبی نعروں کا سہارا لے کر تشدد، تکفیر اور ریاست کے خلاف مسلح بغاوت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان نام نہاد مذہبی تحریکوں اور خوارجی فکر رکھنے والے عناصر نے جہاد کی غلط تشریح کرتے ہوئے بے گناہ انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہیں۔ اس نظریاتی اور عملی گمراہی کے تدارک کے لیے پیغامِ پاکستان کا تاریخی متفقہ فتویٰ ایک ایسا روشن اور غیر مبہم دستاویز ہے جس نے تمام خوارجی افکار اور دہشت گردی کی بنیادوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پیغامِ پاکستان محض ایک نصابی یا سیاسی بیان نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر کے 1,800 سے زائد مفتیانِ کرام کا متفقہ دینی فیصلہ ہے۔ اس جید علمی اجتماعی بصیرت نے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں کر دی ہے کہ ریاستِ پاکستان کے خلاف مسلح کارروائیاں، بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، اور خودکش حملے اسلامی تعلیمات کی روح کے صریحاً منافی ہیں اور ان کا اسلام کے مقدس تصورِ جہاد سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔

مسلح تشدد جہاد نہیں

خوارجی فکر کا سب سے بڑا مغالطہ یہ رہا ہے کہ وہ ریاست، اس کے اداروں اور شہریوں کے خلاف تشدد کو جہاد کا نام دیتے ہیں۔ پیغامِ پاکستان میں سورۃ المائدہ کی آیت 33 کا حوالہ دیتے ہوئے اس باطل نظریے کا قلع قمع کیا ہے۔ قرآنِ کریم کی اس آیت میں صاف طور پر ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، وہ محاربین ہیں اور ان کا عمل حرابہ یعنی فساد فی الارض کے زمرے میں آتا ہے۔

سڑکوں، بازاروں اور عام شاہراہوں پر بم دھماکے کرنا، شہریوں اور سیکورٹی اداروں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنانا، بھتہ خوری کا نظام چلانا اور ریاستی و قومی تنصیبات کو نقصان پہنچانا فساد فی الارض کی بدترین صورتیں ہیں۔ علماءِ کرام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اسلامیہ ریاست میں امن کو تباہ کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا عمل شرعی طور پر حرام اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔

ریاست اور اولی الأمر کی اطاعت

سلامی سیاسی اور سماجی نظام کا بنیادی ستون نظم و ضبط اور قانون کی پاسداری ہے۔ پیغامِ پاکستان میں سورۃ النساء کی آیت 59 کا حوالہ دیتے ہوئے اولی الأمر یعنی ریاست اور اس کے قانونی و شرعی اقتدار کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور تم میں سے صاحبِ امر کی اطاعت کرو۔

یہ آیت اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ کسی بھی فرد یا غیر قانونی گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے طور پر قانون نافذ کرے یا ریاست کے متوازی اپنا نظام قائم کرنے کی کوشش کرے۔ ریاست کے خلاف مسلح بغاوت، تشدد اور عسکریت پسندی شرعی طور پر ممنوع اور گناہِ کبیرہ ہے، کیونکہ یہ معاشرے کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلتی ہے۔

بغاوت اور سرکشی کرنے والے گروہ

قرآنِ کریم معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں کو ہر قسم کی سرکشی کے خلاف متحد ہونے کی ہدایت دیتا ہے۔ پیغامِ پاکستان میں سورۃ الحجرات کی آیت 9 کی روشنی میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہوں میں سے ایک گروہ حد سے تجاوز کرے اور ظلم و بغاوت کی راہ اختیار کرے، تو قرآن مجید غیر جانبداری یا ظالم کی سرپرستی کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ حکم دیتا ہے کہ اس باغی اور تجاوز کرنے والے کے خلاف اس وقت تک برسرِ پیکار رہا جائے جب تک وہ اللہ کے حکم یعنی قانون کی طرف واپس نہ آ جائے۔

اس آیت کے تحت، وہ گروہ جو ریاست اور عوام پر اپنے نظریات مسلط کرنے کے لیے گن پوائنٹ کا سہارا لیتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں، ان کے خلاف ریاستی و قومی سطح پر کارروائی بالکل جائز اور شرعی تقاضا ہے۔

خودکش حملے اور بے گناہوں کا قتل

خوارج کا سب سے سفاکانہ ہتھیار خودکش دھماکے اور بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ پیغامِ پاکستان نے اس انسانیت سوز عمل کو اسلام کی بنیادی روایات کے خلاف قرار دیتے ہوئے قرآن کی سورۃ البقرہ (آیت 195) کا حوالہ دیا ہے، جس میں اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں ڈالنے سے سختی سے روکا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سورۃ المائدہ (آیت 32) کے اس عالمی اصول کو دہرایا گیا ہے کہ جس نے کسی انسان کو بغیر کسی قصاص کے یا زمین میں فساد پھیلائے بغیر قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔

علماء نے فیصلے میں واضح کیا کہ خودکش حملہ آور بیک وقت دو سنگین ترین جرائم کا مرتکب ہوتا ہے: ایک انتحار (خودکشی) اور دوسرا قتلِ ناحق۔ اسلامی شریعت میں ان دونوں جرائم کی سزا جہنم ہے۔ شہریوں، سیکیورٹی اہلکاروں، اساتذہ، پولیو ورکرز، اور عبادت گاہوں پر حملے کرنے والوں کے پاس اپنے ان مظالم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے نہ کوئی قرآن و سنت کی دلیل ہے اور نہ ہی فقہی جواز۔

تکفیری سوچ

خوارجی فکر کا ایک اور مہلک عنصر تکفیر ہے، یعنی اپنے سیاسی یا نظریاتی مخالفین کو کافر قرار دے کر ان کا خون مباح سمجھنا۔ پیغامِ پاکستان نے سورۃ الانعام (آیت 159) اور سورۃ الروم (آیت 31) کے ذریعے اس تکفیری سوچ پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ ان آیات میں مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دین میں فرقہ واریت نہ پھیلائیں اور نہ ہی امت کو ٹکڑوں میں بانٹیں۔

کسی بھی کلمہ گو مسلمان کو محض نظریاتی اختلافات کی بنا پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا اور پھر اس کے خلاف تشدد کو جائز سمجھنا خوارج کا قدیم فتنہ ہے۔ اسلام فرقہ واریت اور تکفیر پسندی کی شدید نفی کرتا ہے اور باہمی احترام، برداشت اور یکجہتی کا درس دیتا ہے۔

پیغامِ پاکستان کا متفقہ فتویٰ اس حقیقت کو مکمل طور پر واضح کر دیتا ہے کہ خوارج کے نظریات، مسلح تشدد، خودکش حملے اور ریاستی اداروں پر حملے مکمل طور پر غیر اسلامی اور حرام ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کر کے مذہب کا نام استعمال کرنے والے عناصر دراصل اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ وقت کا اہم تقاضا ہے کہ پیغامِ پاکستان کے اس بیانیے کو ہر سطح پر عام کیا جائے تاکہ نئی نسل کو خوارج کے گمراہ کن پراپیگنڈے اور نظریاتی فریب سے محفوظ رکھا جا سکے اور ملک میں پائیدار امن، اخوت اور آئین و قانون کی بالادستی قائم رہے۔

دیکھیے: قرآنی آیات کی تحریف اور فتنۃ الخوارج کا بیانیہ

متعلقہ مضامین

ملا عبداللطیف منصور کے بیان پر ردِعمل، ماہرین کے مطابق سوویت شکست میں پاکستان کا کردار فیصلہ کن تھا۔

August 25, 2026

نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمر ایوب، علی امین گنڈاپور اور مراد سعید سمیت 47 اشتہاری مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

August 25, 2026

گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے، منصوبے کے تحت پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا۔

August 25, 2026

افغانستان میں فتنہ الخوارج، داعش خراسان اور القاعدہ سمیت مختلف عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش بڑھ گئی۔

August 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *