راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں 47 اشتہاری مجرموں کے خلاف علیحدہ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے تمام مجرموں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی جبکہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سزا پانے والے مجرم 9 مئی کے واقعات کی سازش میں ملوث پائے گئے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے ان افراد کو 9 مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی میں مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔ پراسیکیوشن کی جانب سے 19 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے، جبکہ مقدمے میں اب تک استغاثہ کے مجموعی طور پر 44 گواہان کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں۔
سزا پانے والے ملزمان
عدالتی فیصلے کے مطابق سزا پانے والوں میں عمر ایوب، زرتاج گل، شیخ راشد، مراد سعید، زلفی بخاری، علی امین گنڈاپور، شاندانہ گلزار، شہباز گل، حماد اظہر، اعظم سواتی، احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا، اعجاز خان جازی، شبلی فراز اور کنول شوزب سمیت دیگر شامل ہیں۔
پس منظر
مقدمے میں مجموعی طور پر 118 ملزمان نامزد تھے، جن میں سے 18 ملزمان دورانِ ٹرائل اشتہاری قرار دیے گئے، جبکہ 29 ملزمان مقدمہ درج ہونے کے بعد کسی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ تمام اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا گیا۔
عدالت کے مطابق ملزمان جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پر حملوں میں ملوث پائے گئے۔ ان پر 9 مئی کے واقعات کے دوران جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور اہم سرکاری عمارتوں و مقامات کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔