"> سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن کیلئے ضروری ہے، اسحاق ڈار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پانی ہماری ریڈ لائن، آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن کیلئے ضروری ہے، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

August 29, 2026

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن، استحکام اور پاکستان بھارت تعلقات میں اعتماد کیلئے ضروری ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کیلئے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ ریاستوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ہونی چاہیے۔

اسحاق ڈار کے مطابق عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے اور یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کے حل کیلئے قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

معاہدے کی معطلی

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے اپنا مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔

پاکستان کے آبی حقوق

اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج سے پانی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کیلئے انڈس واٹر کمیشن اور معاہدے میں باضابطہ طریقہ کار موجود ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ قوانین اور معاہدوں کی پاسداری سے ہی مشکل ترین معاملات کا پرامن حل ممکن ہے۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پانی کا تحفظ پاکستان کی غذائی اور معاشی سلامتی سے براہ راست جڑا ہے۔ پاکستان تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی ہے، تاہم اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کرتا رہے گا۔

اسحاق ڈار نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کیلئے ضروری ہے۔

دیکھیے: دریائے چناب پر رَٹل ڈیم: سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *