ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی، حملہ آوروں کی تلاش جاری۔

August 29, 2026

عوامی دباؤ کے بعد لکی مروت امن کمیٹی نے متوازی نظام کے قیام پر معذرت کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کا عہد کر لیا ہے۔

August 29, 2026

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، انکوائری کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کردی۔

August 29, 2026

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

August 29, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ، جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ٹیسٹ و ٹرائلز کا مشاہدہ کیا۔

August 29, 2026

امریکہ نے وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد تیل ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کرلیا، صدر ٹرمپ کا دعویٰ۔

August 29, 2026

پانی ہماری ریڈ لائن، آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کو علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن کیلئے ضروری ہے، اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

August 29, 2026

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن، استحکام اور پاکستان بھارت تعلقات میں اعتماد کیلئے ضروری ہے۔

واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے زیر اہتمام سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اہم قانونی فریم ورک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی انسانی زندگی، غذائی تحفظ اور معاشی سلامتی کیلئے بنیادی ضرورت ہے، جبکہ ریاستوں کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت ہونی چاہیے۔

اسحاق ڈار کے مطابق عالمی بینک سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے اور یہ معاہدہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی معاملات کے حل کیلئے قانونی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

معاہدے کی معطلی

نائب وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی علاقائی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے اپنا مؤقف اجاگر کرتا رہے گا۔

پاکستان کے آبی حقوق

اسحاق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج سے پانی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات کے حل کیلئے انڈس واٹر کمیشن اور معاہدے میں باضابطہ طریقہ کار موجود ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ قوانین اور معاہدوں کی پاسداری سے ہی مشکل ترین معاملات کا پرامن حل ممکن ہے۔

نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پانی کا تحفظ پاکستان کی غذائی اور معاشی سلامتی سے براہ راست جڑا ہے۔ پاکستان تنازعات کے حل کیلئے سفارت کاری اور مذاکرات کا حامی ہے، تاہم اپنے جائز آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن سفارتی اور قانونی راستہ اختیار کرتا رہے گا۔

اسحاق ڈار نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کیلئے ضروری ہے۔

دیکھیے: دریائے چناب پر رَٹل ڈیم: سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی بے نقاب

متعلقہ مضامین

ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کی فائرنگ، ڈی ایس پی سمیت 5 پولیس اہلکار زخمی، حملہ آوروں کی تلاش جاری۔

August 29, 2026

عوامی دباؤ کے بعد لکی مروت امن کمیٹی نے متوازی نظام کے قیام پر معذرت کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کا عہد کر لیا ہے۔

August 29, 2026

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی، انکوائری کمیٹی نے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کردی۔

August 29, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پی او ایف واہ کا دورہ، جدید اسلحے اور گولہ بارود کے ٹیسٹ و ٹرائلز کا مشاہدہ کیا۔

August 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *