بھارت کی جانب سے 1960 میں طے پانے والے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے اور دریائے چناب پر رَٹل پن بجلی منصوبے کی متنازع تعمیر نے جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک استحکام اور پرامن آبی تعاون کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور عالمی بینک کی زیرِ نگرانی طے پانے والے اس معاہدے کی معطلی نے خطے میں عدم اعتماد کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
عالمی قوانین کی خلاف ورزی
چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سندھ طاس معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا ذریعہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم اسٹریٹجک اور سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ بھارت کا اس بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ سیاسی فیصلوں کی نذر کرنا قواعد پر مبنی عالمی نظام کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ مستقبل کے عالمی معاہدوں کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رَٹل پن بجلی منصوبہ
دریائے چناب پر مقبوضہ کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں زیرِ تعمیر 850 میگاواٹ کا رَٹل پن بجلی منصوبہ سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ 133 میٹر بلند اس ڈیم کے ڈیزائن، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور اسپِل وے کی اونچائی پر پاکستان کو شدید تحفظات ہیں۔ بھارت کی جانب سے اہم ہائیڈرولوجیکل اور آپریشنل ڈیٹا کی عدم فراہمی نے اس منصوبے کو مزید متنازع بنا دیا ہے۔
پاکستان کی زرعی معیشت
پاکستان کی معیشت، زراعت، اور کروڑوں شہریوں کے روزگار کا براہِ راست انحصار دریائے سندھ اور چناب کے پانی پر ہے۔ بالائی علاقے میں پانی کے بہاؤ پر غیر قانونی کنٹرول سے پنجاب کا آبپاشی نظام اور زرعی پیداوار بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ حساس زرعی ادوار کے دوران پانی کے بہاؤ میں خلل سے ملک میں شدید غذائی عدم تحفظ اور معاشی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی جیسے بنیادی انسانی وسیلے کو جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔ تکنیکی ڈیٹا کا تبادلہ روکنے سے معمول کے معاملات بھی سیکیورٹی تنازع کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور اسٹریٹجک استحکام کے لیے ضروری ہے کہ بھارت بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کا احترام کرے اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق شفافیت کو یقینی بنائے۔
دیکھیے: مکہ معاہدہ: پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا اتحاد بھارت کیلئے دردِ سر بن گیا