سابق افغان طالبان وزیر کا اعتراف کہ عمران خان گریٹر افغانستان کے مقصد کے لیے موزوں تھے، ملکی سلامتی کے لیے تشویشناک ہے۔ ایک طرف ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سرحدی سکیورٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف اندرونی سیاست کے نام پر دفاعی نظام اور قومی املاک پر حملے کیے گئے۔
طالبان کی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی رہی ہے۔ عمران خان کے دور میں قیدیوں کی رہائی اور ہزاروں جنگجوؤں کی آبادی کاری کے فیصلوں نے دہشت گردی کو ہوا دی۔ اسی کا خمیازہ آج سکیورٹی فورسز اور شہری بھگت رہے ہیں۔
بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی محاذ پر بھی یہی انداز دیکھا گیا۔ 9 مئی کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ، لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش کرنا اور املاک کی توڑ پھوڑ اسی اندرونی یلغار کی مثالیں ہیں۔ ایک طرف ٹی ٹی پی کے ذریعے سرحدی امن تباہ کیا گیا، تو دوسری طرف سیاسی کارکنوں سے حساس تنصیبات پر حملہ کرایا گیا۔
طالبان کے عمران خان کی حمایت پر مبنی بیانات اور 9 مئی کے داخلی حملے ایک ہی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور عوام میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ دشمن عناصر کی یہ پسِ پردہ حمایت ملکی سلامتی کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
دیکھیے: قندھار میں این آئی ایف کی بڑی کارروائی، طالبان کے نائب انٹیلی جنس چیف ہلاک