بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

September 1, 2026

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

September 1, 2026

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 31, 2026

پی ٹی ایم کے جبری گمشدگیوں کے بیانیے پر سوالات، تنظیم پر را اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے الزامات بھی سامنے آگئے۔

August 31, 2026

عمران خان گریٹر افغانستان کے ایجنڈے کے لیے موزوں تھے، سابق طالبان وزیر کا بیان

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
طالبان کا عمران خان کی حمایت کا اعتراف: 9 مئی اور ٹی ٹی پی پر سوالات

سابق طالبان رہنما کا عمران خان کو افغانستان کے لیے موزوں قرار دینے کا بیان، گریٹر افغانستان کے دعوے اور 9 مئی کے واقعات پر نئے سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

سابق افغان طالبان وزیر کا اعتراف کہ عمران خان گریٹر افغانستان کے مقصد کے لیے موزوں تھے، ملکی سلامتی کے لیے تشویشناک ہے۔ ایک طرف ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سرحدی سکیورٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، تو دوسری طرف اندرونی سیاست کے نام پر دفاعی نظام اور قومی املاک پر حملے کیے گئے۔

طالبان کی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی رہی ہے۔ عمران خان کے دور میں قیدیوں کی رہائی اور ہزاروں جنگجوؤں کی آبادی کاری کے فیصلوں نے دہشت گردی کو ہوا دی۔ اسی کا خمیازہ آج سکیورٹی فورسز اور شہری بھگت رہے ہیں۔

بیرونی خطرات کے ساتھ اندرونی محاذ پر بھی یہی انداز دیکھا گیا۔ 9 مئی کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ، لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش کرنا اور املاک کی توڑ پھوڑ اسی اندرونی یلغار کی مثالیں ہیں۔ ایک طرف ٹی ٹی پی کے ذریعے سرحدی امن تباہ کیا گیا، تو دوسری طرف سیاسی کارکنوں سے حساس تنصیبات پر حملہ کرایا گیا۔

طالبان کے عمران خان کی حمایت پر مبنی بیانات اور 9 مئی کے داخلی حملے ایک ہی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں اور عوام میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ دشمن عناصر کی یہ پسِ پردہ حمایت ملکی سلامتی کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

دیکھیے: قندھار میں این آئی ایف کی بڑی کارروائی، طالبان کے نائب انٹیلی جنس چیف ہلاک

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا کر 18 دہشت گرد ہلاک کردیئے، فائرنگ کے دوران کیپٹن عبید شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

September 1, 2026

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

September 1, 2026

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *