"> پی ٹی ایم کا بیانیہ، را اور دہشت گرد روابط پر سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مبینہ گمشدگیاں یا ریاست مخالف مہم؟ پی ٹی ایم کے بیانیے پر سنگین سوالات

پی ٹی ایم کے جبری گمشدگیوں کے بیانیے پر سوالات، تنظیم پر را اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے الزامات بھی سامنے آگئے۔
پی ٹی ایم کا بیانیہ، را اور دہشت گرد روابط پر سوالات

پی ٹی ایم کے جبری گمشدگیوں کے بیانیے پر سوالات، را، افغان طالبان اور ٹی ٹی پی سے مبینہ روابط کے دعوے سامنے آگئے۔

August 31, 2026

پی ٹی ایم کی جانب سے پشتونوں کی مبینہ جبری گمشدگیوں اور گرفتاریوں کے خلاف مہم پر نئے سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔ جوابی بیانیے میں تنظیم پر انسانی حقوق کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پی ٹی ایم کا مؤقف ہے کہ من مانی گرفتاری اور خفیہ حراست سے امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بنیادوں پر تحقیقات کو فوری طور پر نسلی جبر قرار دینا درست نہیں۔

جوابی بیانیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماضی میں پی ٹی ایم سے وابستہ بعض افراد کو لاپتا قرار دیا گیا، تاہم بعد میں ان کے رضاکارانہ طور پر روپوش ہونے یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعوے سامنے آئے۔

پی ٹی ایم کے را سے روابط

جوابی تحریر میں پی ٹی ایم پر بھارتی خفیہ ادارے را سے مبینہ روابط کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مبینہ لیک آڈیو اور مالی روابط کا حوالہ دیا گیا ہے۔

بیانیے میں کہا گیا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے سے پاکستان کے خلاف انسانی حقوق کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مؤقف کے مطابق ایسے معاملات کا حل ملکی قانونی نظام کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

جوابی بیانیے میں پی ٹی ایم پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے پشتون شہریوں کے مسائل پر اسی شدت سے آواز نہیں اٹھاتی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کے حقوق بھی انسانی حقوق کے بیانیے کا حصہ ہونے چاہئیں۔

افغان طالبان سے مبینہ روابط

تحریر میں خالد زدران کی یادداشت کا حوالہ دیتے ہوئے منظور پشتین کے افغان طالبان قیادت سے مبینہ رابطوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر پی ٹی ایم کے سیاسی کردار اور سرحد پار نیٹ ورکس سے ممکنہ روابط پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

اسی طرح ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی کتاب انقلابِ محسود کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں منظور پشتین کے مقاصد کو ٹی ٹی پی کے مقاصد سے ہم آہنگ قرار دیا گیا ہے۔

جوابی بیانیے میں پی ٹی ایم سے وابستہ شاہد کاکڑ کو بھارتی بینک اکاؤنٹ سے مبینہ طور پر 11 ہزار پاؤنڈ ملنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

دہشت گردی سے روابط

ایک اور جوابی تحریر میں پی ٹی ایم کارکن عبد الرحمٰن کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں تربیت حاصل کرنے والے خودکش حملہ آور کی معاونت کی تھی۔

اس دعوے کو پی ٹی ایم کے بعض کارکنوں کے سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاہم الزام اور عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

جوابی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت کسی فرد کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی۔ ریاست کو دہشت گردی اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم شہریوں کے قانونی حقوق اور شفاف عدالتی عمل کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

پی ٹی ایم کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے دعوؤں اور ریاستی اداروں کے خلاف الزامات کے درمیان اصل حقائق جاننے کے لیے شفاف تحقیقات اہم قرار دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور انسانی حقوق کے تحفظ، دونوں تقاضوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے۔

دیکھیے: تیراہ میں پی ٹی ایم کے اجتماعات: حقوق کی جدوجہد یا ریاست مخالف بیانیہ؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *