جنرل ہسپتال کے گائنی وارڈ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ حاملہ خواتین سمیت 70 افراد کو فوری طور پر عمارت سے باہر نکال لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آگ چھت میں نصب وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔
واقعے کے فوراً بعد فائر فائٹرز موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پالیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
تاہم، ایک گارڈ کی حالت خراب ہوگئی۔ اسے جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق گارڈ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں نرسری وارڈ میں آتشزدگی کے باعث 15 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے۔
پمز سانحے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی کی جانچ کی گئی۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشقیں بھی کروائی گئیں۔
تاہم، لاہور جنرل ہسپتال میں آگ کے واقعے نے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ بڑی تعداد میں شہری علاج کراتے ہیں۔ اس لیے فائر سیفٹی کے انتظامات کی نگرانی اہم ہے۔
اس کے بعد بھی سوال یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ نگرانی کون کرتا ہے؟
پمز سانحے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی چیک کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مشقیں بھی کروائی گئی تھیں۔
تاہم، چند روز بعد لاہور جنرل ہسپتال میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آگیا۔
اب واقعے کی تحقیقات میں ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔ ساتھ ہی مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے لیے مؤثر اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔
دیکھیے: اسلام آباد: پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق