"> طالبان حکومت کے 5 سال، اسلام آباد کانفرنس میں چیلنجز بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کے پانچ سال مکمل، آئی آر ایس اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی مشترکہ کانفرنس، اعلامیہ جاری

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر حکمرانی، خواتین کے حقوق اور سکیورٹی خطرات زیر بحث۔
آئی آر ایس اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی مشترکہ کانفرنس

اسلام آباد کانفرنس میں طالبان حکومت کے پانچ سالہ دور حکومت، خواتین کے حقوق، معیشت اور سکیورٹی خطرات پر تشویش کا اظہار۔

September 1, 2026

اسلام آباد میں طالبان حکومت کے اقتدار میں پانچ سال مکمل ہونے پر ایک اہم کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال، طالبان کی طرز حکمرانی اور خطے کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کانفرنس کا انعقاد آئی آر ایس اور ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے اشتراک سے کیا گیا۔ اس میں پالیسی ماہرین، تھنک ٹینکس کے نمائندے، افغانستان امور کے ماہرین، پالیسی ساز، سفارت کار اور ملکی و غیر ملکی مبصرین نے شرکت کی۔

طالبان حکومت پانچ سال مکمل

کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ طالبان حکومت پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود جامع سیاسی نظام قائم نہیں کر سکی۔ جامع طرز حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق طالبان کے دعوے بھی عملی طور پر پورے نہیں ہوئے۔

شرکا نے کہا کہ افغانستان کا روایتی شوریٰ نظام کمزور ہو چکا ہے۔ اس سے مقامی سطح پر فیصلہ سازی اور عوامی نمائندگی متاثر ہوئی ہے۔ ان حکومتی ناکامیوں کا خمیازہ عام افغان عوام بھگت رہے ہیں۔

مہنگائی، سکیورٹی اور تعلیم

کانفرنس میں افغان خواتین کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار تک رسائی انتہائی محدود ہے۔ یہ صورتحال جامع اور مستحکم معاشرے کی تشکیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ اس نے عالمی برادری کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔

شرکا کے مطابق طالبان حکومت پانچ برسوں میں علاقائی اور عالمی برادری کے خدشات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس ناکامی کے باعث افغانستان بین الاقوامی تنہائی کا شکار ہے۔ اسے سفارتی سطح پر بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ افغان عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ طالبان حکومت کی معاشی پالیسیاں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہیں۔ نتیجتاً افغان عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور بی ایل اے

کانفرنس میں سکیورٹی کو اہم مسئلہ قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور دیگر مسلح گروہ سرگرم ہیں۔ ان گروہوں کی موجودگی پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ ہے۔

کانفرنس میں افغان مزاحمتی گروہوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ اعلامیے کے مطابق مزاحمتی گروہوں نے کابل، قندھار اور قندوز سمیت اہم علاقوں میں کارروائیاں بڑھائی ہیں۔ ان علاقوں میں طالبان کو براہ راست نشانہ بنائے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے۔

شرکا نے اتفاق کیا کہ پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود طالبان حکومت کو حکمرانی، معیشت، سکیورٹی اور سفارت کاری میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک ان بنیادی مسائل کا حل نہیں نکلتا، افغانستان میں سیاسی و معاشی استحکام مشکل نظر آتا ہے۔

دیکھیے: دس افغان صوبوں میں کارروائیاں، طالبان مخالف مزاحمت میں نئی لہر

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *