وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اسے کبھی سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کیا۔ اجلاس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان اور نمائندے شریک ہوئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے 2027 کے لیے ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ انہوں نے کرغیز جمہوریہ کو سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی اور تنظیم کی مؤثر قیادت پر مبارکباد بھی پیش کی۔
ایس سی او اور علاقائی تعاون
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں میں شنگھائی اسپرٹ کی رہنمائی میں ایس سی او علاقائی تعاون کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے۔ موجودہ عالمی حالات میں تنظیم مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر مکمل یقین رکھتا ہے۔
پانی کا استعمال
وزیراعظم نے ایس سی او کے رکن ممالک کو پانی کی اہمیت کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی ہمارے خطے کی زندگی ہے اور اسے کبھی بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل سے متعلق پابند معاہدوں کی روح اور الفاظ کے مطابق پاسداری ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق عالمی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد خطے میں اعتماد اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ وزیراعظم کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی ایس سی او اجلاس میں موجود تھے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کا معاملہ پہلے ہی اہم علاقائی اور سفارتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے اجلاس میں شہباز شریف کی جانب سے پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال نہ کرنے پر زور خاص اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی قربانیاں
وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر صورت میں مذمت کی جانی چاہیے۔
شہباز شریف کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں۔ اس جنگ سے ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان بھی ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔
غزہ کی صورتحال پر تشویش
وزیراعظم نے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری انسانی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کا احترام کیا جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل اقتصادی صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔
پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کی ترجیحات
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اپنی چیئرمین شپ تصور کو عملی اقدامات میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی کے عنوان کے تحت چلائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چیئرمین شپ میں توانائی، آئی ٹی، صحت، ثقافت اور کھیل کے شعبوں کو ترجیح دی جائے گی۔ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک پر بھی توجہ دی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان علاقائی رابطہ کاری کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ سی پیک خطے کی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک میں تین ارب سے زائد افراد آباد ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم کو اپنے عوام کی زندگیوں میں حقیقی اور بامعنی بہتری لانے کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ ایس سی او مزید مضبوط ہوگی اور علاقائی امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی۔
عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
ایس سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
ان کی چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادی میر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے بیلاروس، ازبکستان، تاجکستان اور قازقستان کے صدور سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں علاقائی، عالمی اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔