بلوچستان کے علاقے زیارت کراس میں کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
حملہ 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب کیا گیا۔ دہشتگردوں نے زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔
کسٹمز اہلکاروں کی حفاظت کے لیے ایف سی اور پولیس بھی موقع پر موجود تھی۔ دہشتگردوں نے فائرنگ کی تو سکیورٹی اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
دس دہشتگرد ہلاک
فائرنگ کے شدید تبادلے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ حملے میں ایک کسٹمز اہلکار اور ایک افسر سمیت 6 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
حملے کے بعد ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس موقع پر پہنچ گئی۔ سکیورٹی اہلکار فرار ہونے والے دہشتگردوں کی تلاش میں کارروائی کر رہے ہیں۔
زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ ایک اہم سرحدی نگرانی کے مقام پر قائم ہے۔ یہاں افغانستان سے آنے والی گاڑیوں اور سامان کی جانچ کی جاتی ہے۔
چیک پوسٹ کا مقصد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، منشیات اور اسمگل شدہ اشیا کی روک تھام بھی ہے۔ یہ راستہ اسپن بولدک، چمن سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے والی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے اہم ہے۔
فورسز کا جواب
زیارت کراس حملے میں سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد مارے گئے جبکہ حملہ آوروں کا تعاقب بھی جاری ہے۔
واقعے سے ایک بار پھر واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اور سرحدی نگرانی کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔
حکام کی جانب سے حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 18 دہشت گرد ہلاک