"> زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگرد حملہ، 10 دہشتگرد ہلاک
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

زیارت چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، جوابی کارروائی میں 10 دہشتگرد مارے گئے

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ حملہ

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کے حملے میں 10 دہشتگرد ہلاک، کسٹمز اہلکار اور 6 سکیورٹی اہلکار زخمی، ایف سی کی کارروائی جاری۔

September 1, 2026

بلوچستان کے علاقے زیارت کراس میں کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں نے حملہ کردیا۔ سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

حملہ 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب کیا گیا۔ دہشتگردوں نے زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔

کسٹمز اہلکاروں کی حفاظت کے لیے ایف سی اور پولیس بھی موقع پر موجود تھی۔ دہشتگردوں نے فائرنگ کی تو سکیورٹی اہلکاروں نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔

دس دہشتگرد ہلاک

فائرنگ کے شدید تبادلے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ حملے میں ایک کسٹمز اہلکار اور ایک افسر سمیت 6 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔

زخمی اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کی حالت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

حملے کے بعد ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس موقع پر پہنچ گئی۔ سکیورٹی اہلکار فرار ہونے والے دہشتگردوں کی تلاش میں کارروائی کر رہے ہیں۔

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ ایک اہم سرحدی نگرانی کے مقام پر قائم ہے۔ یہاں افغانستان سے آنے والی گاڑیوں اور سامان کی جانچ کی جاتی ہے۔

چیک پوسٹ کا مقصد نان کسٹم پیڈ گاڑیوں، منشیات اور اسمگل شدہ اشیا کی روک تھام بھی ہے۔ یہ راستہ اسپن بولدک، چمن سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے والی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے اہم ہے۔

فورسز کا جواب

زیارت کراس حملے میں سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشتگردوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 دہشتگرد مارے گئے جبکہ حملہ آوروں کا تعاقب بھی جاری ہے۔

واقعے سے ایک بار پھر واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی اور سرحدی نگرانی کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے۔

حکام کی جانب سے حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات سامنے لانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 18 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *