خیبر پختونخوا: پشاور کے علاقے ہزارخوانی میں بارش کے بعد سرکاری پرائمری اسکول پانی میں ڈوب گیا۔ اسکول کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صوبے میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
بارش کے بعد اسکول کے مختلف حصوں میں پانی جمع ہوگیا۔ اس صورتحال نے طلبہ اور اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔
یہ منظر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں تعلیم کو بہتر بنانے کے دعوے مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم، ایک سرکاری اسکول کی یہ صورتحال ان دعوؤں پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔
سرکاری اسکول بچوں کے لیے محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری رکھتے ہیں۔
اگر معمول کی بارش کے بعد اسکول میں پانی جمع ہوجائے تو مسئلہ صرف نکاسی آب تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے اسکول کی عمارت، طلبہ کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
ہزارخوانی کے سرکاری اسکول کی صورتحال نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ صوبے کے دیگر سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا کیا حال ہے۔
حکومتی ترجیحات
خیبر پختونخوا میں ایک ہی سیاسی جماعت کو مسلسل تیسری بار حکومت کا موقع ملا ہے۔ ایسے میں عوام حکومتی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے میں حق بجانب ہیں۔
مسلسل حکومت کے ساتھ کارکردگی کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم، صحت، سڑکوں اور نکاسی آب جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔
پشاور کے سرکاری اسکول میں بارش کا پانی جمع ہونا اسی وسیع سوال کا حصہ بن گیا ہے۔
تعلیم کے لیے بجٹ مختص کرنا اپنی جگہ اہم ہے۔ تاہم، اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس بجٹ کے نتائج عوام کو نظر آئیں۔
اسکول کی عمارت محفوظ ہو، نکاسی آب کا نظام بہتر ہو اور بچوں کو صاف اور محفوظ ماحول ملے۔ یہی وہ بنیادی نتائج ہیں جن سے حکومتی کارکردگی کو جانچا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہ ہوں تو حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
وزارتِ اعلیٰ سے کارکردگی کا مطالبہ
وزارتِ اعلیٰ صوبے کا سب سے بڑا انتظامی منصب ہے۔ اس منصب پر موجود حکومت سے عوام بہتر انتظام، مؤثر نگرانی اور واضح نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔
کسی بھی حکومت کی اہلیت کا اندازہ صرف سیاسی نعروں سے نہیں ہوتا۔ اصل پیمانہ عوام کو ملنے والی سہولیات اور روزمرہ مسائل کا حل ہے۔
اسی لیے پشاور کے اس سرکاری اسکول کی صورتحال کو ایک معمولی واقعہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ اسکول میں نکاسی آب کا مناسب انتظام کیوں موجود نہیں تھا۔
قوم کے مستقبل کا سوال
اسکول میں پڑھنے والے بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اگر ایک سرکاری اسکول بارش کے بعد زیر آب آجائے تو یہ صرف ایک عمارت کا مسئلہ نہیں۔ یہ تعلیمی نظام کی ترجیحات پر بھی سوال ہے۔
خیبر پختونخوا میں مسلسل تیسری بار حکومت کرنے والی قیادت سے اب صرف دعوے نہیں بلکہ عملی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
پشاور کے ہزارخوانی اسکول کا واقعہ بھی یہی سوال سامنے لاتا ہے کہ جب قوم کے مستقبل کو تعلیم دینے والے ادارے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہوں تو صوبے کے دیگر شعبوں کی کارکردگی کو کس پیمانے پر جانچا جائے؟
اب ضرورت سیاسی بیانات سے آگے بڑھنے کی ہے۔ اسکول کی حالت بہتر بنائی جائے، ذمہ داری طے کی جائے اور بچوں کو ایسا تعلیمی ماحول دیا جائے جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔
دیکھیے: زیارت چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، جوابی کارروائی میں 10 دہشتگرد مارے گئے