"> پشاور سرکاری اسکول بارش سے زیر آب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پشاور کا سرکاری اسکول بارش سے زیر آب، حکومتی کارکردگی پر سنگین سوالات

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔
پشاور سرکاری اسکول بارش سے زیر آب

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد زیر آب آگیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

خیبر پختونخوا: پشاور کے علاقے ہزارخوانی میں بارش کے بعد سرکاری پرائمری اسکول پانی میں ڈوب گیا۔ اسکول کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صوبے میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

بارش کے بعد اسکول کے مختلف حصوں میں پانی جمع ہوگیا۔ اس صورتحال نے طلبہ اور اساتذہ کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔

یہ منظر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں تعلیم کو بہتر بنانے کے دعوے مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم، ایک سرکاری اسکول کی یہ صورتحال ان دعوؤں پر سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔

سرکاری اسکول بچوں کے لیے محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری رکھتے ہیں۔

اگر معمول کی بارش کے بعد اسکول میں پانی جمع ہوجائے تو مسئلہ صرف نکاسی آب تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے اسکول کی عمارت، طلبہ کی حاضری اور تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔

ہزارخوانی کے سرکاری اسکول کی صورتحال نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ صوبے کے دیگر سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا کیا حال ہے۔

حکومتی ترجیحات

خیبر پختونخوا میں ایک ہی سیاسی جماعت کو مسلسل تیسری بار حکومت کا موقع ملا ہے۔ ایسے میں عوام حکومتی کارکردگی کے بارے میں سوال کرنے میں حق بجانب ہیں۔

مسلسل حکومت کے ساتھ کارکردگی کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تعلیم، صحت، سڑکوں اور نکاسی آب جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

پشاور کے سرکاری اسکول میں بارش کا پانی جمع ہونا اسی وسیع سوال کا حصہ بن گیا ہے۔

تعلیم کے لیے بجٹ مختص کرنا اپنی جگہ اہم ہے۔ تاہم، اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب اس بجٹ کے نتائج عوام کو نظر آئیں۔

اسکول کی عمارت محفوظ ہو، نکاسی آب کا نظام بہتر ہو اور بچوں کو صاف اور محفوظ ماحول ملے۔ یہی وہ بنیادی نتائج ہیں جن سے حکومتی کارکردگی کو جانچا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہ ہوں تو حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

وزارتِ اعلیٰ سے کارکردگی کا مطالبہ

وزارتِ اعلیٰ صوبے کا سب سے بڑا انتظامی منصب ہے۔ اس منصب پر موجود حکومت سے عوام بہتر انتظام، مؤثر نگرانی اور واضح نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

کسی بھی حکومت کی اہلیت کا اندازہ صرف سیاسی نعروں سے نہیں ہوتا۔ اصل پیمانہ عوام کو ملنے والی سہولیات اور روزمرہ مسائل کا حل ہے۔

اسی لیے پشاور کے اس سرکاری اسکول کی صورتحال کو ایک معمولی واقعہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ متعلقہ اداروں کو معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ اسکول میں نکاسی آب کا مناسب انتظام کیوں موجود نہیں تھا۔

قوم کے مستقبل کا سوال

اسکول میں پڑھنے والے بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ انہیں محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول دینا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اگر ایک سرکاری اسکول بارش کے بعد زیر آب آجائے تو یہ صرف ایک عمارت کا مسئلہ نہیں۔ یہ تعلیمی نظام کی ترجیحات پر بھی سوال ہے۔

خیبر پختونخوا میں مسلسل تیسری بار حکومت کرنے والی قیادت سے اب صرف دعوے نہیں بلکہ عملی نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔

پشاور کے ہزارخوانی اسکول کا واقعہ بھی یہی سوال سامنے لاتا ہے کہ جب قوم کے مستقبل کو تعلیم دینے والے ادارے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہوں تو صوبے کے دیگر شعبوں کی کارکردگی کو کس پیمانے پر جانچا جائے؟

اب ضرورت سیاسی بیانات سے آگے بڑھنے کی ہے۔ اسکول کی حالت بہتر بنائی جائے، ذمہ داری طے کی جائے اور بچوں کو ایسا تعلیمی ماحول دیا جائے جس کا وہ حق رکھتے ہیں۔

دیکھیے: زیارت چیک پوسٹ پر حملہ ناکام، جوابی کارروائی میں 10 دہشتگرد مارے گئے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *