"> ماہ رنگ بلوچ سیاسی قیدی نہیں، عدالتی حقائق سامنے آ گئے
سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر

سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا بیانیہ اور حکومتی ریکارڈ بے نقاب

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

ماہ رنگ بلوچ سیاسی قیدی نہیں، عدالتی فیصلے نے بی وائی سی کا بیانیہ بے نقاب کر دیا

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ بی وائی سی کے رہنما سیاسی قیدی نہیں بلکہ سکیورٹی اہلکار کے قتل اور تشدد کی سہولت کاری میں سزا یافتہ مجرم ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ

ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ کی عمر قید، گوادر کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے اور بی وائی سی کے سیاسی قیدی کے بیانیے پر اہم سوالات۔

September 3, 2026

انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ کے تفصیلی فیصلے اور قانونی حقائق نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے اس سنسنی خیز بیانیے کا پول کھول دیا ہے جس میں سزایافتہ مجرموں کو سیاسی قیدی بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

عدالتی شواہد کے مطابق 29 جولائی 2024 کو گوادر کے الجوہر اسکول کے قریب راجی مچی اجتماع کے دوران مشتعل ہجوم نے ایف سی کے سپاہی شبیر احمد کو پتھروں اور لاٹھیوں سے تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا تھا، جبکہ اس حملے میں ایک افسر سمیت 16 اہلکار شدید زخمی ہوئے تھے۔

انسدادِ دہشت گردی عدالت کوئٹہ نے مقدمے کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ عرف شاہ جی کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302-بی، 147، 148 اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7-اے کے تحت عمر قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ بی وائی سی کی قیادت نے نہ صرف غیر قانونی اجتماع منظم کیا بلکہ سکیورٹی اہلکاروں پر حملے اور قتل میں مشترکہ نیت اور مجرمانہ ارادے کا مظاہرہ کیا، جو سیدھا سیدھا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق بی وائی سی پر بارہا یہ الزام بھی ثابت ہوا ہے کہ یہ گروہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو لاپتا افراد کے طور پر پیش کر کے ایک گمراہ کن بیانیہ تشکیل دیتا رہا ہے تاکہ عسکری کارروائیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔

فروری 2026 میں تربت کے مقابلے میں ہلاک ہونے والا مبینہ دہشت گرد سلیم بلوچ پہلے لاپتا فرد کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، جبکہ بعد میں اس کی عسکریت پسندی میں ملوث ہونے کی تصدیق کالعدم تنظیموں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے خود کی۔

عالمی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس معاملے پر یک طرفہ مؤقف دکھایا جا رہا ہے، جبکہ عدالتی شواہد، شہید اہلکار کے حقوق اور ریاستی سکیورٹی فورسز پر ہونے والے تشدد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔

ریاست نے واضح کیا ہے کہ آئین کے تحت پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن حقوق کی تحریک کے پردے میں تشدد کو فروغ دینے، سکیورٹی اہلکاروں کو شہید کرنے اور دشمن عناصر کے لیے سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف قانون پوری طاقت سے حرکت میں آئے گا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے قانونی راستے موجود ہیں، تاہم یک طرفہ بین الاقوامی دباؤ یا سوشل میڈیا پراپیگنڈے کے ذریعے قانون کی حکمرانی اور شہداء کے لہو کا سودا نہیں کیا جا سکتا۔

دیکھیے: میڈیکل اسٹوڈنٹ سے عسکریت پسند تک

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے تین آپریشنز میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری سے 18 مزدور اغوا کرلیے۔

October 18, 2026

کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے سلامتی کے اداروں اور شہداء کی قربانیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اداروں پر متنازع بیانات ان کی سیاست کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

October 18, 2026

افغان کرنسی کے استحکام پر مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا معاشی و سیاسی تجزیہ۔ جانئے کرنسی کی قدر، معاشی ترقی اور جمہوری تضادات کا حقیقت پسندانہ جائزہ۔

October 18, 2026

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے نعروں اور حکومتی اقدامات میں واضح تضاد سامنے آ گیا۔ الحاق پاکستان پر متنازع بیانات سے لے کر پرتعیش گاڑیوں کی خریداری اور کابینہ کی توسیع تک، ان کا ریکارڈ سوالیہ نشان بن گیا۔

October 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *