پاکستان کی سیاست میں آئین، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے علمبردار بننے والے سینئر سیاسی رہنما مولانا فضل الرحمٰن کا حالیہ بیانیہ معاشی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے نہ صرف حیران کن ہے بلکہ معاشی مسلمات سے آنکھیں چرانے کے مترادف بھی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے افغان کرنسی کی قدر میں استحکام کو طالبان حکومت کی بہترین حکمرانی اور معاشی کامیابی کا بڑا ثبوت بنا کر پیش کیا ہے۔ تاہم، معاشی تاریخ اور بنیادی اصولوں کا علم رکھنے والا کوئی بھی شخص اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ کسی ملک کی کرنسی کا ایکسچینج ریٹ اس کی معاشی صحت کا واحد یا حتمی معیار ہرگز نہیں ہوتا۔
اگر صرف کرنسی کے تبادلے کی شرح کو ہی ترقی کا پیمانہ مان لیا جائے تو جاپان کی ین اور جنوبی کوریا کی وان کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں کافی کم ہے، جبکہ اس کے برعکس کئی غیر مستحکم معیشتوں یا جنگ زدہ علاقوں کی کرنسیاں محض سخت انتظامی کنٹرول اور ڈالر کی بندش کے باعث بظاہر مستحکم نظر آتی ہیں۔ کیا جاپان اور جنوبی کوریا جیسی تکنیکی اور صنعتی عظیم قوتیں افغان معیشت سے پسماندہ ہیں؟ ہرگز نہیں۔
معیشت کا اصلی وجود کسی ملک کی صنعتی پیداوار، روزگار کی فراہمی، بنیادی انفراسٹرکچر، مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور عوام کی قوت خرید سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف کرنسی ڈیلروں پر سخت پابندیاں عائد کر کے ڈالر کی آمدورفت روکنے سے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی معیشت کا بڑا حصہ تا حال بین الاقوامی امداد اور بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقوم پر انحصار کرتا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں بے روزگاری ریکارڈ سطح پر ہے، غربت کا تناسب 70 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے اور عوام کی بڑی تعداد خوراک اور علاج جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ ایسے میں کرنسی کی ظاہری قدر کو “معاشی انقلاب” سے تعبیر کرنا معاشی حقائق سے یکسر لا علمی کا مظاہرہ ہے۔
اس بیانیے کا دوسرا اور زیادہ تشویشناک پہلو وہ سیاسی تضاد ہے جو مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے اندر آئین کی بالادستی، پارلیمانی جمہوریت اور شفاف انتخابات کا نعرہ لگانے والے رہنما کے لیے افغانستان کا ایک ایسا نظام قابلِ تقلید اور مثال بن چکا ہے جہاں نہ کوئی منتخب پارلیمنٹ وجود رکھتی ہے اور نہ ہی عوامی انتخابات کی اجازت ہے۔
اس کے علاوہ بچیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی آزادی سے مکمل محروم کر دیا گیا ہے اور بنیادی انسانی حقوق اور آزادئ اظہارِ رائے پر سخت ترین پابندیاں لاگو ہیں۔
یہ تضاد اس بات کو واضح کرتا ہے کہ سیاست میں بیانیے اپنے مفادات کے تحت کس طرح بدلتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کا تقاضا کرنے والے اگر پڑوس میں ایک غیر جمہوری اور آمرانہ نظام کی معاشی و انتظامی مثالیں دیں گے، تو ان کی اپنی جمہوری جدوجہد کے اخلاص پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی رہنما عوامی پلیٹ فارمز سے محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے معاشی مغالطے پھیلانے سے گریز کریں۔ معیشت کا استحکام محض زرمبادلہ کے مصنوعی کنٹرول سے نہیں بلکہ آئینی استقرار، آزاد بازار، پیداواری صلاحیت اور عوام کی فلاح سے ممکن ہوتا ہے۔ حقائق سے آنکھیں بند کر کے افغان ماڈل کی تعریف کرنا نہ تو معاشی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔





