افغانستان میں طالبان کے خلاف اپوزیشن اور مسلح گروہوں کی مزاحمتی کارروائیوں میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے، جس کے تحت مختلف علاقوں میں طالبان حکام اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
افغانستان کی اسلامی تحریکِ آزادی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ہرات کے آریانا محلے میں ایک اہم ٹارگٹڈ کارروائی کرتے ہوئے طالبان کے انٹیلی جنس رکن قاری عبداللہ کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا ہے۔
تحریک کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ حملہ بدھ کی شام، 11 ویرگونی کو پیش آیا، جس کے بعد حملہ آور جنگجو طالبان اہلکار کا پستول اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے کر بحفاظت فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
سیاسی و عسکری تجزئیہ نگاروں کے مطابق افغانستان کے مختلف صوبوں بالخصوص ہرات اور شمالی علاقوں میں اپوزیشن گروہوں کی ان منظم کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان حکومت کے خلاف اندرونی مسلح مزاحمت کی لہر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
دیکھیے: طالبان مخالف مزاحمت میں شدت، اے یو ایف کی 14 صوبوں میں 43 کارروائیاں