اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر 25 ستمبر کو بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے مجوزہ احتجاج کی تیاریوں کے دوران پاکستان نے بلوچستان میں سکیورٹی کارروائیوں پر مبنی منفی بیانیے کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی اقدامات کو نسل کشی یا اجتماعی سزا قرار دینا زمینی حقائق کے برعکس ہے، جبکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے دہشت گردی کے اصل حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے۔
ریاستی مؤقف میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) 2006 سے پاکستان میں ممنوعہ تنظیم ہے، جبکہ امریکہ نے بھی اسے 2019 میں عالمی دہشت گرد اور اگست 2025 میں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔
پاکستان نے مارچ 2025 کے جعفر ایکسپریس حملے سمیت دیگر دہشت گردانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچ مسلح گروہ سکیورٹی اہلکاروں، عام شہریوں اور اہم قومی ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
جبری گمشدگیوں کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ متعلقہ تحقیقاتی کمیشن کو 2011 سے اب تک 10 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے اکثریت کو شفاف عمل کے ذریعے نمٹایا جا چکا ہے۔
مؤقف کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کے بعض رہنماؤں پر مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مخصوص قانونی الزامات کے تحت چلائے گئے ہیں، اور ریاستی اقدامات مکمل طور پر قانون کے دائرے میں ہیں۔
ترقیاتی محاذ پر پاکستان نے نشاندہی کی کہ سی پیک اور کان کنی کے وسیع منصوبوں کو دہشت گردانہ حملوں کے ذریعے سبوتاژ کرنے کی ناکام کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ بلوچستان سے متعلق کسی بھی بحث کو یکطرفہ پراپیگنڈے کے بجائے مستند اعدادوشمار اور تمام فریقین کے جامع مؤقف کی روشنی میں دیکھا جائے۔
دیکھیے: ماہ رنگ بلوچ سیاسی قیدی نہیں، عدالتی فیصلے نے بی وائی سی کا بیانیہ بے نقاب کر دیا