یمنی سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کے ترجمان ابو حذیفہ الانصاری گرفتاری کے لیے کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے۔

September 4, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایف سی سپاہی شبیر احمد کے قتل کیس میں بی وائی سی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

September 4, 2026

ممتاز بلوچ کیس پر سوشل میڈیا مہم کے بعد سکیورٹی مؤقف میں بلوچستان کی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

September 4, 2026

جامعہ کراچی کے طالب علم خلیل احمد بلوچ کی حراست پر سوشل میڈیا مہم کے بعد سکیورٹی ذرائع نے قانونی طریقہ کار اور انٹیلی جنس تحقیقات کے حقائق واضح کر دیے ہیں۔

September 4, 2026

اقوام متحدہ کے باہر بی این ایم کے احتجاج سے قبل پاکستان نے بلوچستان سے متعلق نسل کشی کے بیانیے کو مسترد کردیا اور دہشت گردی کے حقائق سامنے رکھ دیے۔

September 4, 2026

بلوچستان کے ضلع قلات میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔ بھاگ میں بھی دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔

September 4, 2026

ممتاز بلوچ کیس، سوشل میڈیا مہم کے بجائے حقائق اور قانونی طریقہ کار پر زور

ممتاز بلوچ کیس پر سوشل میڈیا مہم کے بعد سکیورٹی مؤقف میں بلوچستان کی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اقدامات اور قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
ممتاز بلوچ کیس

ممتاز بلوچ کیس پر سکیورٹی ذرائع کا مؤقف سامنے آگیا، سوشل میڈیا مہم کے بجائے حقائق اور قانون کو ترجیح دینے پر زور۔

September 4, 2026

ممتاز بلوچ کی رہائی کے لیے 6 ستمبر کو شروع کی جانے والی سوشل میڈیا مہم پر سکیورٹی ذرائع کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔

ردِعمل میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور لاپتا افراد کے معاملات پر یکطرفہ بیانیے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ممتاز بلوچ کا نام ستمبر 2022 سے لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ہے اور وہ اس سے قبل بھی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں کی جانب سے حساس تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں بار بار حراست میں لینے کا معاملہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔

بیان کے مطابق کسی فرد کا بار بار سکیورٹی اداروں کے رڈار پر آنا بلاوجہ نہیں ہوتا، بلکہ نئی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔

لاپتا افراد کمیشن کے مطابق رپورٹ شدہ بیشتر مقدمات حل ہو چکے ہیں، جبکہ نئے قوانین کے تحت زیرِ حراست افراد کے لیے قانونی اور طبی سہولتیں میسر ہیں۔

ردِعمل میں نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں کئی نام نہاد لاپتا افراد بعد میں کالعدم تنظیموں کے فعال عسکریت پسند یا خودکش حملہ آور ثابت ہوئے۔

بیان میں شاہداد ممتاز، سلیم بلوچ، محمد نعیم ستاکزئی اور امتیاز احمد کی مثالیں دی گئیں جنہیں پہلے لاپتا قرار دیا گیا اور بعد میں بی ایل اے نے ان کی ملکیت تسلیم کی۔

سکیورٹی ذرائع نے تاکید کی ہے کہ لاپتا افراد کے مسئلے پر صرف ہیش ٹیگ مہمات کے بجائے دہشت گردی کے حقائق اور قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھا جائے۔

دیکھیے: لاپتا افراد یا عسکری نیٹ ورک؟ بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی حقیقت

متعلقہ مضامین

یمنی سکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ داعش کے ترجمان ابو حذیفہ الانصاری گرفتاری کے لیے کیے گئے مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے۔

September 4, 2026

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایف سی سپاہی شبیر احمد کے قتل کیس میں بی وائی سی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

September 4, 2026

جامعہ کراچی کے طالب علم خلیل احمد بلوچ کی حراست پر سوشل میڈیا مہم کے بعد سکیورٹی ذرائع نے قانونی طریقہ کار اور انٹیلی جنس تحقیقات کے حقائق واضح کر دیے ہیں۔

September 4, 2026

اقوام متحدہ کے باہر بی این ایم کے احتجاج سے قبل پاکستان نے بلوچستان سے متعلق نسل کشی کے بیانیے کو مسترد کردیا اور دہشت گردی کے حقائق سامنے رکھ دیے۔

September 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *