جامعہ کراچی میں ماس کمیونیکیشن کے ایم فل طالب علم خلیل احمد بلوچ کی رہائی کے لیے سوشل میڈیا پر ایک نئی مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
خلیل احمد بلوچ کا تعلق ضلع آواران کے علاقے مشکے گجر سے ہے اور وہ بی این ایم کے سینئر رہنما کمال بلوچ کے بھتیجے ہیں۔
سوشل میڈیا پر متحرک عناصر کا دعویٰ ہے کہ خلیل احمد کو 4 اگست 2026 کو جامعہ کراچی سے حراست میں لیا گیا، جسے جبری گمشدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی کے تناظر میں سکیورٹی ادارے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نیٹ ورکس کی چھان بین کرتے ہیں۔
کالعدم عسکری تنظیموں سے خاندانی یا تنظیمی روابط سکیورٹی اداروں کے لیے اہم عوامل ہو سکتے ہیں، تاہم محض رشتہ داری کسی کے مجرم ہونے کا ثبوت نہیں ہوتی۔
پاکستان میں ایسے معاملات سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ قانونی طریقہ کار اور لاپتا افراد سے متعلق تحقیقاتی کمیشن موجود ہے، جہاں زیادہ تر کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔
صوبائی سطح پر بھی نگرانی کے مراکز قائم ہیں جہاں زیرِ حراست افراد کے اہل خانہ کو رسائی، طبی سہولتیں اور عدالتی دیکھ بھال کی سہولت میسر ہے۔
سابقہ ریکارڈ کے مطابق ماضی میں جن افراد کو لاپتا قرار دیا گیا، ان میں سے بعض بعد میں عسکریت پسند تنظیموں کی فعال کارروائیوں میں ملوث پائے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام حقائق کو نظرانداز کر کے سوشل میڈیا پر یکطرفہ مہم چلانا سکیورٹی تحقیقات اور بلوچستان کے اصل سکیورٹی تناظر کو متاثر کرتا ہے۔
ریاستی مؤقف کے مطابق تحقیقات مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق کی جاتی ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے شواہد ملنے پر ہی قانونی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
پُرامن طلبہ کے قانونی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں، تاہم ریاست مخالف سرگرمیوں اور سہولت کاری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
دیکھیے: پراپیگنڈا بے نقاب: مستونگ میں ترقیاتی کاموں کے خلاف منفی بیانیہ ناکام