ممتاز بلوچ کی رہائی کے لیے 6 ستمبر کو شروع کی جانے والی سوشل میڈیا مہم پر سکیورٹی ذرائع کا ردِعمل سامنے آیا ہے۔
ردِعمل میں بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال اور لاپتا افراد کے معاملات پر یکطرفہ بیانیے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ممتاز بلوچ کا نام ستمبر 2022 سے لاپتا افراد کی فہرست میں شامل ہے اور وہ اس سے قبل بھی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیموں کی جانب سے حساس تنصیبات پر حملوں کے تناظر میں بار بار حراست میں لینے کا معاملہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔
بیان کے مطابق کسی فرد کا بار بار سکیورٹی اداروں کے رڈار پر آنا بلاوجہ نہیں ہوتا، بلکہ نئی معلومات کی بنیاد پر تحقیقات کی جاتی ہیں۔
لاپتا افراد کمیشن کے مطابق رپورٹ شدہ بیشتر مقدمات حل ہو چکے ہیں، جبکہ نئے قوانین کے تحت زیرِ حراست افراد کے لیے قانونی اور طبی سہولتیں میسر ہیں۔
ردِعمل میں نشاندہی کی گئی کہ ماضی میں کئی نام نہاد لاپتا افراد بعد میں کالعدم تنظیموں کے فعال عسکریت پسند یا خودکش حملہ آور ثابت ہوئے۔
بیان میں شاہداد ممتاز، سلیم بلوچ، محمد نعیم ستاکزئی اور امتیاز احمد کی مثالیں دی گئیں جنہیں پہلے لاپتا قرار دیا گیا اور بعد میں بی ایل اے نے ان کی ملکیت تسلیم کی۔
سکیورٹی ذرائع نے تاکید کی ہے کہ لاپتا افراد کے مسئلے پر صرف ہیش ٹیگ مہمات کے بجائے دہشت گردی کے حقائق اور قانونی طریقہ کار کو مدنظر رکھا جائے۔
دیکھیے: لاپتا افراد یا عسکری نیٹ ورک؟ بلوچستان میں مسلح تنظیموں کی حقیقت