بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملے کو عسکری تنظیم بی ایل اے کے پراپیگنڈا نیٹ ورک کا حصہ بنانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق بعض افراد کی گمشدگی کو ریاستی اداروں کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بعد میں انہی افراد کے نام مسلح کارروائیوں یا خودکش حملوں سے جوڑے جانے کے دعوے سامنے آتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے معاملے کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
شاہ فہد کے معاملے نے بھی اس بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ بی ایل اے کی جانب سے اسے خودکش حملہ آور قرار دیے جانے کے بعد اس کی شناخت اور پس منظر کی چھان بین پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی دباؤ اور عالمی ہمدردی کے لیے استعمال کر کے نوجوانوں کو مسلح سرگرمیوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے۔ اس لیے انسانی حقوق کے مسائل اور دہشت گرد تنظیموں کے مفادات میں فرق لازمی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ لاپتا افراد کے ہر کیس اور دہشت گردی کے ہر دعوے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں۔ اسی سے حقائق اور پراپیگنڈا کے درمیان واضح فرق ممکن ہو سکے گا۔