افغان سرحد پر غلام خان بارڈر کے مقام پر سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران 15 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا اہم کمانڈر کوچئی داوڑ بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کوچئی داوڑ کالعدم ٹی ٹی پی کے خودکش اسکواڈ کے کلیدی کمانڈر علی داوڑ کا قریبی ساتھی تھا۔ وہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں اور خودکش بمباروں کی ترسیل میں بھی ملوث رہا ہے۔
فورسز کی بروقت کارروائی
سکیورٹی فورسز نے سرحد پر موجود مشتبہ نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا۔ اس کے بعد دراندازی کی کوشش کو مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔
سکیورٹی فورسز ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ سرحدی علاقوں میں بھی نگرانی مزید مؤثر بنائی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔
حکام کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان میں داخل ہونے کی کسی بھی کوشش کا مؤثر جواب دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سرحدی نگرانی اور سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق غلام خان بارڈر پر کارروائی سکیورٹی فورسز کی سرحدی چوکس نگرانی کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں ملک میں امن و استحکام کے لیے جاری رہیں گی۔
سکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ ملک میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔