بلوچستان میں سکیورٹی کارروائیوں اور شہری املاک سے متعلق اختر مینگل کے مؤقف پر مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو صرف املاک کے نقصان تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
ان کے مطابق دہشت گردی کے باعث عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ اس لیے انسانی جانوں کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے۔
ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے جانی نقصان پر اسی شدت سے آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔
ان کے مطابق دہشت گرد گروہ سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے نتیجے میں خوف اور عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ دہشت گردی سے سڑکیں، پل، پولیس اسٹیشن، اسکول اور بجلی کا نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔
شہری املاک اور انسانی جانیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ باغات اور دیگر املاک کا تحفظ بھی اہم ہے۔ تاہم، انسانی جانوں کا تحفظ اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی علاقے میں مسلح عناصر شہری مقامات کو چھپنے یا کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس پہلو پر بھی بات ہونی چاہیے۔
اسی لیے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر کسی باغ یا جائیداد کو مالکان کی لاعلمی میں استعمال کیا جا رہا ہو تو وہاں موجود افراد طویل عرصے تک مکمل طور پر کیسے پوشیدہ رہ سکتے ہیں؟
معیشت بھی متاثر
بلوچستان میں دہشت گردی کا اثر صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے مقامی کاروبار اور روزگار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دہشت گرد تاجروں کو نشانہ بناتے، تجارتی گاڑیوں کو نقصان پہنچاتے اور آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے عام خاندانوں کے معاشی مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو امن، عزت، ترقی اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ اس لیے تمام فریقوں کو شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ہر سکیورٹی اقدام کو صرف ایک ہی زاویے سے دیکھنا مکمل تجزیہ نہیں۔ دہشت گردی کے پس منظر اور شہریوں کو درپیش خطرات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ریاستی اقدامات پر سوال اٹھانا ایک حق ہے۔ تاہم، دہشت گرد گروہوں کی جانب سے شہریوں کے اغوا، قتل، سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں اور سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی بھی واضح مذمت ہونی چاہیے۔
بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو ریاستی اداروں اور مسلح گروہوں کے درمیان کشمکش کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔
ان کے مطابق حقیقی توجہ شہریوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنے پر ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ قانون کی بالادستی، جواب دہی اور بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
اسی تناظر میں اختر مینگل کے مؤقف پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اصل ترجیح بلوچستان کے عوام کی زندگی اور سلامتی ہے تو پھر دہشت گردی کے باعث ہونے والے جانی نقصان اور شہریوں کے خلاف تشدد کی بھی اسی طرح واضح مذمت کیوں نہ کی جائے؟