افغان سفارتخانے کے ایک وفد نے اسف زردان خان، اتاشی برائے افغان مہاجرین امور، کی قیادت میں چکوال انتظامیہ سے ملاقات کی اور افغان شہریوں کی ملکیت سے منسوب 23 دکانوں کی مجوزہ نیلامی منسوخ کرنے کی درخواست کی۔
یہ 23 کاروباری دکانیں فروری 2026 میں سیل کی گئی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان کاروباروں کو افغان شہری مبینہ طور پر فرنٹ مین کے ذریعے چلا رہے تھے۔
انتظامیہ کے مطابق دکانیں سیل ہونے کے بعد تقریباً 6 ماہ تک کسی فرد نے ان کاروباروں پر دعویٰ نہیں کیا۔ اس کے بعد ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی چکوال نے کاروباروں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا۔
حکام کے مطابق نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم نیشنل بینک آف پاکستان میں حکومت پنجاب کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
ملاقات کے دوران چکوال انتظامیہ نے افغان وفد کو واضح کیا کہ کاروباروں پر کوئی غیر قانونی قبضہ نہیں کیا جا رہا۔ حکام نے متعلقہ قانونی شقوں سے بھی وفد کو آگاہ کیا۔
انتظامیہ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 172 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم حکومت پنجاب کے امانت اکاؤنٹ میں جمع کرائی جائے گی۔
افغان سفارتخانہ کابل سے رہنمائی لے گا
تفصیلی گفتگو کے بعد افغان اتاشی کی جانب سے تجویز دی گئی کہ افغان سفارتخانہ اس معاملے پر کابل میں طالبان حکومت سے رہنمائی حاصل کرے گا۔
ضرورت پڑنے کی صورت میں افغان سفارتخانہ معاملہ پاکستان اور پنجاب کی حکومتوں کے ساتھ مناسب سفارتی و قانونی طریقہ کار کے تحت اٹھا سکتا ہے۔
یوں چکوال میں 23 کاروباری دکانوں کی مجوزہ نیلامی کا معاملہ اب متعلقہ حکام اور افغان سفارتخانے کے درمیان باضابطہ رابطے کے ذریعے آگے بڑھنے کا امکان ہے۔