آٹھ ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ 6 ستمبر کو بھارتی افواج کی جانب سے بین الاقوامی سرحد عبور کیے جانے کے بعد لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر لڑائی جاری تھی۔
دونوں ممالک کی افواج مختلف محاذوں پر بھرپور عسکری کارروائیوں میں مصروف تھیں۔ اس دوران کھیم کرن، اصَل اُتر اور سیالکوٹ کے محاذ خاص اہمیت اختیار کر گئے۔
کھیم کرن اور اصَل اُتر کے علاقے میں ٹینکوں اور زمینی دستوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔
پاکستانی فوج نے کھیم کرن کی جانب پیش قدمی کی۔ دوسری جانب بھارتی فورسز نے اصَل اُتر کے علاقے میں اپنی دفاعی پوزیشنیں مضبوط کرلیں۔
بعد کے دنوں میں یہ علاقہ جنگِ ستمبر کی بڑی بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوا۔
سیالکوٹ کے محاذ پر بھی 8 ستمبر کو لڑائی میں شدت آ گئی تھی۔ چاوِنڈہ کے علاقے میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔
اس محاذ پر بڑی تعداد میں ٹینک استعمال کیے گئے۔ چاوِنڈہ کی لڑائی بعد میں 1965 کی جنگ کی اہم ترین بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوئی۔
جنگِ ستمبر کی تلخ حقیقت
آٹھ ستمبر 1965 کا دن جنگِ ستمبر کے مختلف محاذوں پر جاری شدید لڑائی کی عکاسی کرتا ہے۔ لاہور سے سیالکوٹ اور کشمیر تک جنگ پھیل چکی تھی۔
تاہم جنگ کی تاریخ صرف عسکری کارروائیوں اور کامیابیوں تک محدود نہیں۔ اس میں فوجیوں کے ساتھ عام شہریوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔
آج جنگِ ستمبر کو یاد کرتے ہوئے اس کے انسانی نقصان کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ تاریخ کا یہ باب خطے میں امن کی اہمیت اور جنگ کے تباہ کن اثرات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔