لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

آٹھ ستمبر 1965، لاہور سے سیالکوٹ تک جنگ کا دائرہ پھیل گیا

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔
آٹھ ستمبر 1965، جنگِ ستمبر

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر کے دوران لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ 6 ستمبر کو بھارتی افواج کی جانب سے بین الاقوامی سرحد عبور کیے جانے کے بعد لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر لڑائی جاری تھی۔

دونوں ممالک کی افواج مختلف محاذوں پر بھرپور عسکری کارروائیوں میں مصروف تھیں۔ اس دوران کھیم کرن، اصَل اُتر اور سیالکوٹ کے محاذ خاص اہمیت اختیار کر گئے۔

کھیم کرن اور اصَل اُتر کے علاقے میں ٹینکوں اور زمینی دستوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

پاکستانی فوج نے کھیم کرن کی جانب پیش قدمی کی۔ دوسری جانب بھارتی فورسز نے اصَل اُتر کے علاقے میں اپنی دفاعی پوزیشنیں مضبوط کرلیں۔

بعد کے دنوں میں یہ علاقہ جنگِ ستمبر کی بڑی بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوا۔

سیالکوٹ کے محاذ پر بھی 8 ستمبر کو لڑائی میں شدت آ گئی تھی۔ چاوِنڈہ کے علاقے میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اس محاذ پر بڑی تعداد میں ٹینک استعمال کیے گئے۔ چاوِنڈہ کی لڑائی بعد میں 1965 کی جنگ کی اہم ترین بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوئی۔

جنگِ ستمبر کی تلخ حقیقت

آٹھ ستمبر 1965 کا دن جنگِ ستمبر کے مختلف محاذوں پر جاری شدید لڑائی کی عکاسی کرتا ہے۔ لاہور سے سیالکوٹ اور کشمیر تک جنگ پھیل چکی تھی۔

تاہم جنگ کی تاریخ صرف عسکری کارروائیوں اور کامیابیوں تک محدود نہیں۔ اس میں فوجیوں کے ساتھ عام شہریوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔

آج جنگِ ستمبر کو یاد کرتے ہوئے اس کے انسانی نقصان کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ تاریخ کا یہ باب خطے میں امن کی اہمیت اور جنگ کے تباہ کن اثرات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔

دیکھیے: سات ستمبر اور ایم ایم عالم کا فضائی معرکہ

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *