سنٹرل کرم کے علاقے تاتنگ درہ میں فورسز نے کارروائی کر کے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک مغوی ایس ایچ او کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

September 9, 2026

اسلام آباد کی عدالت نے مینا خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

September 9, 2026

نائن الیون کے 25 برس بعد بھی امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب برقرار ہے۔ ایک نئی رپورٹ نے اہم حقائق ظاہر کیے ہیں۔

September 9, 2026

نئے صوبے پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

September 9, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یمن سے حملوں کے بعد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے اور پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دے گا۔

September 9, 2026

گزشتہ روز حوثی ملیشیا کے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں سعودی شہروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

September 9, 2026

آٹھ ستمبر 1965، لاہور سے سیالکوٹ تک جنگ کا دائرہ پھیل گیا

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔
آٹھ ستمبر 1965، جنگِ ستمبر

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر کے دوران لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔

September 8, 2026

آٹھ ستمبر 1965 کو پاک بھارت جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ 6 ستمبر کو بھارتی افواج کی جانب سے بین الاقوامی سرحد عبور کیے جانے کے بعد لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر لڑائی جاری تھی۔

دونوں ممالک کی افواج مختلف محاذوں پر بھرپور عسکری کارروائیوں میں مصروف تھیں۔ اس دوران کھیم کرن، اصَل اُتر اور سیالکوٹ کے محاذ خاص اہمیت اختیار کر گئے۔

کھیم کرن اور اصَل اُتر کے علاقے میں ٹینکوں اور زمینی دستوں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔

پاکستانی فوج نے کھیم کرن کی جانب پیش قدمی کی۔ دوسری جانب بھارتی فورسز نے اصَل اُتر کے علاقے میں اپنی دفاعی پوزیشنیں مضبوط کرلیں۔

بعد کے دنوں میں یہ علاقہ جنگِ ستمبر کی بڑی بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوا۔

سیالکوٹ کے محاذ پر بھی 8 ستمبر کو لڑائی میں شدت آ گئی تھی۔ چاوِنڈہ کے علاقے میں پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

اس محاذ پر بڑی تعداد میں ٹینک استعمال کیے گئے۔ چاوِنڈہ کی لڑائی بعد میں 1965 کی جنگ کی اہم ترین بکتر بند لڑائیوں میں شمار ہوئی۔

جنگِ ستمبر کی تلخ حقیقت

آٹھ ستمبر 1965 کا دن جنگِ ستمبر کے مختلف محاذوں پر جاری شدید لڑائی کی عکاسی کرتا ہے۔ لاہور سے سیالکوٹ اور کشمیر تک جنگ پھیل چکی تھی۔

تاہم جنگ کی تاریخ صرف عسکری کارروائیوں اور کامیابیوں تک محدود نہیں۔ اس میں فوجیوں کے ساتھ عام شہریوں کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔

آج جنگِ ستمبر کو یاد کرتے ہوئے اس کے انسانی نقصان کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔ تاریخ کا یہ باب خطے میں امن کی اہمیت اور جنگ کے تباہ کن اثرات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے۔

دیکھیے: سات ستمبر اور ایم ایم عالم کا فضائی معرکہ

متعلقہ مضامین

سنٹرل کرم کے علاقے تاتنگ درہ میں فورسز نے کارروائی کر کے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک مغوی ایس ایچ او کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

September 9, 2026

اسلام آباد کی عدالت نے مینا خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

September 9, 2026

نائن الیون کے 25 برس بعد بھی امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب برقرار ہے۔ ایک نئی رپورٹ نے اہم حقائق ظاہر کیے ہیں۔

September 9, 2026

نئے صوبے پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

September 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *