آج 8 ستمبر کو پورے ملک میں یومِ بحریہ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن پاکستان کی بحری تاریخ کے اُس باب سے جڑا ہے جسے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران پاک بحریہ نے اپنے خون اور حکمتِ عملی سے رقم کیا۔ یومِ بحریہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ یہ اُس سبق کی سالانہ یاد دہانی ہے کہ وسائل کی کمی کبھی عزم، تربیت اور جرات کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ ساٹھ برس قبل ایک چھوٹے اور پرانے بحری بیڑے نے جو کارنامہ انجام دیا، اس کی گونج آج بھی پاکستان نیوی کی حکمتِ عملی اور قومی بیانیے میں سنائی دیتی ہے۔
آپریشن دوارکا کا پس منظر
ستمبر 1965 میں جب پاک بھارت جنگ زمینی محاذوں لاہور، سیالکوٹ اور کشمیر پر عروج پر تھی، کراچی کو ایک الگ نوعیت کے خطرے کا سامنا تھا۔ بھارتی فضائیہ کے بمبار طیارے مسلسل کراچی کی جانب پروازیں کر رہے تھے، اور اس کارروائی میں گجرات کے ساحلی شہر دوارکا میں نصب بھارتی ریڈار اسٹیشن کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔ یہ اسٹیشن کراچی سے تقریباً دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا اور بھارتی طیاروں کو نگرانی اور رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ چونکہ کراچی پاکستان کی معیشت اور بندرگاہی سرگرمیوں کا مرکز تھا، اس لیے اس کا دفاع قومی سلامتی کا ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا تھا۔
اسی پس منظر میں کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں پاکستان نیوی نے ایک جرات مندانہ منصوبہ تیار کیا: دوارکا کے ریڈار اسٹیشن کو نشانہ بنانا، بھارتی بحری بیڑے کو ممبئی کی بندرگاہ سے باہر نکلنے پر مجبور کرنا، اور یہ ثابت کرنا کہ بحیرۂ عرب میں پاکستان نیوی بھی فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کارروائی کا ابتدائی کوڈ نام سومناتھ رکھا گیا تھا، مگر تاریخ میں یہ آپریشن دوارکا کے نام سے محفوظ ہوئی۔
اس مشن میں سات جنگی جہاز شریک تھے: فلیگ شپ پی این ایس بابر، تباہ کن جہاز پی این ایس خیبر، پی این ایس بدر، پی این ایس جہانگیر، پی این ایس عالمگیر اور پی این ایس شاہ جہاں، جبکہ فریگیٹ پی این ایس ٹیپو سلطان بھی اس بیڑے کا حصہ تھا۔ یہ تمام جہاز دوسری جنگِ عظیم کے دور کے تھے، مگر ان پر سوار پاکستانی ملاح جدید تربیت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔ بیڑے نے ریڈیو خاموشی اختیار کرتے ہوئے، بغیر کسی سگنل کے، دشمن کے ساحل کی جانب پیش قدمی کی تاکہ بھارتی نگرانی کے نظام کو کوئی خبر نہ ہو۔
آٹھ ستمبر کی رات ٹھیک 12 بج کر 24 منٹ پر پاکستانی بحری جہاز دوارکا کے ساحل کے قریب پہنچے اور اچانک فائرنگ کا آغاز کر دیا۔ تقریباً چار منٹ کے مختصر مگر شدید حملے میں ہر جہاز نے پچاس سے زائد گولے فائر کیے، اور مجموعی طور پر قریب تین سو پچاس گولے دشمن کے دفاعی ٹھکانوں پر داغے گئے۔ اس بمباری میں ریڈار اسٹیشن کو ناکارہ بنا دیا گیا، مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا، جبکہ ریلوے گیسٹ ہاؤس اور ایک سیمنٹ فیکٹری سمیت متعدد صنعتی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا۔ کارروائی مکمل ہوتے ہی بحری بیڑا اسی خاموشی سے واپس روانہ ہو گیا اور صبح چھ بج کر پینتیس منٹ تک تمام جہاز محفوظ طور پر اپنے اڈوں پر واپس پہنچ چکے تھے۔
اس پوری کارروائی کے دوران سمندر کی گہرائیوں میں ایک اور اہم کردار بھی متحرک تھا۔ پی این ایس غازی، جو اس وقت جنوبی ایشیا کی واحد طویل فاصلے تک کارروائی کرنے والی آبدوز تھی، بھارتی بحری بیڑے پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے تعینات کی گئی تھی۔ اس کا ممکنہ ہدف بھارتی طیارہ بردار جہاز آئی این ایس وکرانت تھا، اگرچہ وہ اس وقت مرمت کے مرحلے میں تھا۔ پی این ایس غازی کی موجودگی نے بھارتی بحریہ کو اس قدر محتاط کر دیا کہ بھارتی فریگیٹ آئی این ایس تلوار بھی مداخلت کی جرات نہ کر سکا اور بھارتی بیڑے نے پاکستانی جہازوں کا فوری تعاقب نہیں کیا۔
تزویراتی اہمیت
اگر اس آپریشن کو خالصتاً عسکری نقصان کے پیمانے پر جانچا جائے تو شاید یہ ایک محدود کارروائی معلوم ہو، مگر تجزیاتی نقطہ نظر سے اس کی اصل اہمیت مادی تباہی میں نہیں بلکہ اس نفسیاتی اور تزویراتی پیغام میں پنہاں ہے جو یہ آپریشن پہنچانے میں کامیاب رہا۔ ایک ایسا بحری بیڑا جو دوسری جنگِ عظیم کے فرسودہ جہازوں پر مشتمل تھا، اس نے یہ ثابت کر دیا کہ بحیرۂ عرب میں پاکستان نیوی بھی جارحانہ اور مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کا براہِ راست نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی پر بھارتی فضائی حملوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی، کیونکہ دوارکا کا ریڈار سسٹم غیر فعال ہو چکا تھا۔
اس کے علاوہ، اس کارروائی نے بھارتی بحری دفاع، نگرانی کے نظام اور تیاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے۔ بھارتی حکام نے بعد میں اس نقصان کو کم کرکے پیش کرنے کی کوشش کی، مگر عالمی مبصرین اور بعد ازاں خود بھارتی بحریہ کی پالیسیوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ دھچکا کافی سنگین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد بھارت نے اپنی بحری صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی اور بحریہ کو جدید بنانے کو ترجیح دی۔ اس اعتبار سے آپریشن دوارکا محض ایک لڑائی نہیں بلکہ خطے میں بحری توازن کی نئی بحث کا نکتہ آغاز ثابت ہوا۔
ماضی کی روایت اور حال کے چیلنجز
چھ دہائیاں گزرنے کے باوجود آپریشن دوارکا کی روایت پاکستان نیوی کی موجودہ حکمتِ عملی میں زندہ نظر آتی ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے یومِ بحریہ کے موقع پر اپنے پیغام میں اسی تاریخی تسلسل کو موجودہ دور کے چیلنجز سے جوڑا۔ ان کے مطابق مئی 2025 میں معرکہ حق کے دوران پاکستان نیوی نے اپنی آپریشنل تیاری اور مستعد پیش قدمی کے ذریعے بھارتی بحریہ کو مؤثر انداز میں روکے رکھا، جو ایک بار پھر اس بات کی علامت تھا کہ محدود وسائل کے باوجود حکمتِ عملی کس طرح فیصلہ کن برتری فراہم کر سکتی ہے۔
اسی طرح مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آپریشن محافظِ البحر کے ذریعے پاکستان کی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان نیوی کا کردار اب روایتی سرحدی دفاع سے آگے بڑھ کر عالمی توانائی راہداریوں کے تحفظ تک وسیع ہو چکا ہے۔ صدر مملکت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہنگور کلاس آبدوزوں، جدید جنگی جہازوں، طیاروں اور بغیر پائلٹ نظاموں کی شمولیت کے ذریعے بحریہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل جدید بنا رہی ہے۔ اس جدت کاری کا مقصد صرف روایتی خطرات کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی سکیورٹی منظرنامے سے ہم آہنگ رہنا بھی ہے۔
دفاع سے علاقائی استحکام تک
جدید دور میں پاکستان نیوی کا دائرہ کار محض جنگی تیاری تک محدود نہیں رہا۔ امن مشقوں اور امن ڈائیلاگ جیسے اقدامات کے ذریعے یہ عالمی بحری تعاون کو فروغ دینے میں بھی سرگرم ہے، جبکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں یہ ایک قابلِ اعتماد فرسٹ ریسپانڈر کا کردار بھی ادا کرتی ہے۔ یہ وسعت پذیر کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عصرِ حاضر میں بحری قوت کی تعریف محض جنگی صلاحیت تک محدود نہیں بلکہ علاقائی استحکام، انسانی امداد اور معاشی راہداریوں کے تحفظ تک پھیل چکی ہے۔
اسلام آباد میں نیول ہیڈکوارٹرز کی یادگارِ شہداء پر منعقدہ تقریب، جس میں چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے فاتحہ خوانی کی اور شہداء کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، دراصل اسی جذبے کی علامتی تجدید ہے جو 1965 سے آج تک قائم ہے۔ یہ محض ایک رسمی تقریب نہیں بلکہ اس عہد کی تجدید ہے کہ قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
ماضی سے حال تک ایک ہی سبق
آپریشن دوارکا سے لے کر معرکہ حق اور آپریشن محافظِ البحر تک، ایک ہی سبق بار بار دہرایا جاتا ہے: وسائل کی کمی کبھی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت حکمتِ عملی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ یومِ بحریہ اسی سبق کی سالانہ یاد دہانی ہے۔ یہ دن ماضی کی قربانیوں پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بدلتے ہوئے بحری خطرات چاہے وہ روایتی حریف کی جانب سے ہوں یا عالمی توانائی راہداریوں کی سلامتی سے متعلق ہوں کے مقابلے میں پاکستان نیوی اپنی اس چھ دہائیوں پرانی روایت کو کس طرح مزید مضبوط اور جدید بناتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی چیلنج بڑا ہوا، پاکستان نیوی نے اپنے محدود وسائل کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جرات سے اسے قبول کیا اور یہی روایت اس ادارے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔