روسی تجزیہ کار آندرے سیریںکو نے طالبان حکومت پر اہم الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان انٹیلی جنس چین کو داعش خراسان سے متعلق غیر معتبر معلومات فراہم کر رہی ہے۔
سیریںکو کے مطابق طالبان اس حکمتِ عملی کے ذریعے چین سے ہتھیار، ڈرونز، گولہ بارود اور نائٹ ویژن آلات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
روسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ طالبان کو شمالی افغانستان میں بڑھتی ہوئی طالبان مخالف مزاحمت کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق اسی وجہ سے طالبان اپنی عسکری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ طالبان دیگر علاقائی ممالک سے بھی اسی نوعیت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
داعش خراسان کا خطرہ
سیریںکو کے مطابق طالبان داعش خراسان کے خطرے کو بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان خود کو افغانستان کی سکیورٹی کے لیے ناگزیر قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے علاقائی ممالک کے سکیورٹی خدشات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
اقتدار کے تحفظ کی کوشش
تجزیہ کار کے مطابق طالبان ایک طرف افغانستان میں مکمل کنٹرول اور استحکام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ مزید عسکری سازوسامان کے حصول کے لیے بیرونی حمایت تلاش کر رہے ہیں۔
سیریںکو کا کہنا ہے کہ داعش خراسان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے نام پر حاصل ہونے والے وسائل طالبان مخالف مزاحمت اور دیگر مخالفین کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق طالبان کی یہ حکمتِ عملی اس خوف کو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کو اندرونی مزاحمت سے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔
سیریںکو کے مطابق طالبان کی یہ کوشش صرف چین تک محدود نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ طالبان دیگر علاقائی ممالک کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ افغانستان میں طالبان کی حمایت ضروری ہے۔
ان کے بقول طالبان داعش خراسان کے خطرے کو بیرونی حمایت حاصل کرنے کے لیے جبکہ طالبان مخالف مزاحمت کو اپنے اقتدار کے لیے اندرونی خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سیریںکو کا تجزیہ طالبان کے مکمل کنٹرول کے دعوے پر سوال اٹھاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ بڑھتی مزاحمت کے باعث طالبان بیرونی عسکری حمایت کے خواہاں ہیں۔
دیکھیے: ہرات میں طالبان کا وحشیانہ اقدام، ہاتھ بندھے شہری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا