"> پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کے خلاف درخواست

پی ٹی آئی کا 27 ستمبر احتجاج، ہائیکورٹ نے چاروں صوبوں کے آئی جیز طلب کر لیے

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔
پی ٹی آئی 27 ستمبر احتجاج

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے لارجر بینچ تشکیل دے دیا، کیس کی سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

September 8, 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست پر لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر نے شہری وقاص احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر کیس کی سماعت کے لیے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے۔

لارجر بینچ میں چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف شامل ہیں۔ بینچ 10 ستمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو پہلے ہی نوٹس جاری کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے آئی جیز، ایڈووکیٹ جنرلز اور چیف سیکریٹریز کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہیں 10 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کا مؤقف

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اسلام آباد میں کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج اسلام آباد لانے کے اعلان سے شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کس طرح متاثرہ فریق ہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ احتجاج اسلام آباد میں ہونے کی صورت میں شہریوں اور کاروباری طبقے کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

وکیل نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احتجاج سے متعلق مختلف بیانات اور اخباری تراشے بھی عدالت میں پیش کیے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بعض مقدمات پہلے ہی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ ان کا فیصلہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

وکیل کے مطابق اگر زیرِ التوا مقدمات کی بنیاد پر سڑکوں پر احتجاج کو جواز بنایا گیا تو دیگر مقدمات کے فریقین بھی یہی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے 2024 کے احتجاج کا حوالہ بھی دیا۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ اس دوران اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی گئی اور 3 رینجرز اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ان کے مطابق احتجاج کے نتیجے میں کروڑوں روپے کا مالی نقصان بھی ہوا۔

حکومت کے اختیارات پر بھی دلائل

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج کے ذریعے ریاستی اداروں اور عدالتوں پر دباؤ ڈالنا قابلِ قبول نہیں۔

انہوں نے عدالت کے سامنے اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق قانونی شقیں بھی پیش کیں۔ وکیل کے مطابق حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون کے تحت مناسب پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

سماعت کے دوران سرکاری مشینری کے استعمال کے خدشے کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس موقع پر وزارت داخلہ کا 21 نومبر 2024 کا خط عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *