وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں شہریوں اور توانائی کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے حملے بے گناہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
شہباز شریف نے سعودی قیادت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ترجمان کے مطابق حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے حوثیوں کے حملوں کو خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ حملے سعودی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل
سعودی وزارت خارجہ نے بھی حوثیوں کی جانب سے شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔
وزارت کے مطابق سعودی عرب اپنی سرزمین، قومی اثاثوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
سعودی عرب نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔ ریاض نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق جنوبی علاقے میں توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
وزارت کے مطابق بعض مقامات پر آگ لگنے کے باعث کچھ آپریشنز عارضی طور پر روکنا پڑے۔ متعلقہ حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرۂ احمر میں حملوں کا سلسلہ خطے کی سکیورٹی اور تجارتی بحری راستوں کے لیے ایک نیا خطرہ بن رہا ہے۔
دیکھیے: سعودی عرب پر حوثی حملے: 73 افراد زخمی، خطے میں کشیدگی میں اضافہ