"> پاکستان کو اپنی حیثیت سے دیکھنا ہوگا، ایڈم وائن اسٹائن

پاکستان صرف تنازعات نہیں، بڑی سفارتی و معاشی طاقت بن رہا ہے، ایڈم وائن اسٹائن

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان اب خلیجی دفاعی تعاون، امریکا ایران رابطوں اور معاشی امکانات کے باعث اہم علاقائی شراکت دار بن رہا ہے۔
پاکستان کی عالمی اہمیت

ایڈم وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر اہم سکیورٹی شراکت دار اور معاشی امکانات رکھنے والا ملک بن رہا ہے۔

September 8, 2026

مشرقِ وسطیٰ کے ماہر اور کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم وائن اسٹائن نے کہا ہے کہ امریکا کو پاکستان کو سرد جنگ، افغانستان اور کشمیر جیسے دیگر تنازعات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے اس کی اپنی جغرافیائی، سکیورٹی اور معاشی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔

وائن اسٹائن کے مطابق واشنگٹن کی پاکستان کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے اور اسلام آباد اب صرف ماضی کے تنازعات سے جڑا ملک نہیں رہا۔

ایڈم وائن اسٹائن کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خلیجی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

رائٹرز سے گفتگو میں وائن اسٹائن نے پاکستان کو ایسا ممکنہ ثالث قرار دیا جو واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ قابلِ عمل تعلقات رکھتا ہے۔ ان کے مطابق یہی تعلقات پاکستان کو دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کے لیے نسبتاً منفرد حیثیت دیتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان متعدد پیغامات پہنچائے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون

وائن اسٹائن نے پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کو بھی اہم قرار دیا۔ پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی تعاون، فوجی تربیت اور افرادی قوت کے شعبوں میں روابط رکھتا ہے۔

یہ تعاون اب صرف روایتی دفاعی تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں پاکستان کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات بھی ہیں۔ دوسری جانب ایران کے ساتھ اس کے تاریخی، جغرافیائی اور سفارتی روابط موجود ہیں۔ اسی توازن کی وجہ سے اسلام آباد کو خطے میں ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائن اسٹائن اس سے قبل بھی امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو افغانستان یا دیگر علاقائی تنازعات سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔

کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے لیے 2023 میں لکھی گئی ایک تحقیق میں انہوں نے نشاندہی کی تھی کہ واشنگٹن میں پاکستان کے بارے میں عمومی تاثر اکثر باہمی بداعتمادی، افغانستان اور دہشت گردی جیسے معاملات کے گرد گھومتا رہا ہے۔

انہوں نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو تیسرے ممالک یا تنازعات کے تناظر سے نکال کر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کی بنیاد پر آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

معاشی امکانات بھی اہم

وائن اسٹائن کے مطابق پاکستان کی اہمیت صرف سکیورٹی اور سفارت کاری تک محدود نہیں۔ ملک میں موجود معاشی امکانات بھی امریکہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے خلیج، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک اہم رابطہ بناتی ہے۔ بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی اور گوادر کی بندرگاہ بھی علاقائی تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم امکانات رکھتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت، نوجوان افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور برآمدات کے شعبوں میں بھی امکانات پر عالمی سطح پر بات ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے موجودہ علاقائی صورتحال ایک نئے سفارتی کردار کا موقع بھی پیدا کر رہی ہے۔ تاہم اس کردار کی کامیابی کا انحصار اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی، معاشی استحکام اور مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ قابلِ اعتماد تعلقات برقرار رکھنے پر ہوگا۔

ایڈم وائن اسٹائن کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ پاکستان کو صرف افغانستان، کشمیر یا ماضی کے تنازعات کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک آزاد علاقائی سکیورٹی شراکت دار، ممکنہ سفارتی ثالث اور معاشی امکانات رکھنے والی ریاست کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

دیکھیے: پاکستان مسلم دنیا کا ابھرتا ہوا دفاعی محور

متعلقہ مضامین

مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فائرنگ کے تبادلے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے، نیتن یاہو نے حملہ آوروں کا محلہ تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔

October 23, 2026

وزارتِ عظمیٰ نہ ملنے پر راجہ فاروق حیدر نے نظام اور اسلام آباد کے خلاف بیانات دینا شروع کر دیے، جو اصول پرستی کے بجائے سیاسی ناکامی کا عکس ہیں۔

October 23, 2026

راولپنڈی میں گولڑہ موڑ کے قریب سی این جی اسٹیشن پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوگئے۔

October 23, 2026

گوادر میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کی کوششیں ناکام بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک بلوچ خاتون سمیت 10 حملہ آور ہلاک اور ایک شہری شہید ہوا۔

October 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *