سنٹرل کرم کے علاقے تاتنگ درہ میں فورسز نے کارروائی کر کے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک مغوی ایس ایچ او کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

September 9, 2026

اسلام آباد کی عدالت نے مینا خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

September 9, 2026

نائن الیون کے 25 برس بعد بھی امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب برقرار ہے۔ ایک نئی رپورٹ نے اہم حقائق ظاہر کیے ہیں۔

September 9, 2026

نئے صوبے پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

September 9, 2026

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ یمن سے حملوں کے بعد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے اور پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دے گا۔

September 9, 2026

گزشتہ روز حوثی ملیشیا کے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں سعودی شہروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

September 9, 2026

نائن الیون بہانہ، افغانستان ٹھکانہ، پاکستان نشانہ

سانحہ نائن الیون کے بعد جنگ کا دائرہ اسلام اور پاکستان تک پھیلا دیا گیا۔ دو دہائیوں کی تباہی کے بعد امریکہ افغانستان میں بدترین شکست سے دوچار ہوا۔
نائن الیون کے بعد جنگ کا رخ اسلام اور پاکستان کی طرف موڑ دیا گیا

نائن الیون کے بعد جنگ کا اصل رخ اسلام اور پاکستان کی طرف موڑ دیا گیا۔ امریکہ نے افغانستان کو کھنڈر بنایا مگر اکیس سال بعد بدترین و تاریخی شکست کھا کر واپس لوٹا۔

September 9, 2026

گیارہ ستمبر 2001 کی صبح نیویارک کے ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے حملوں نے دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے گرتے ہوئے مینار اور پینٹاگون کا شعلوں میں گھرا منظر محض ایک عسکری یا دہشت گردانہ واقعہ نہیں تھا، بلکہ اس سانحے کو بنیاد بنا کر ایک ایسی عالمی صف بندی کی گئی جس کا رخ براہِ راست مسلم دنیا کی طرف موڑ دیا گیا۔ نائن الیون کے فوراً بعد مغربی میڈیا، عسکری پالیسی سازوں اور دائیں بازو کے فکری حلقوں نے اس المیے کو پورے عالمِ اسلام کے خلاف ایک نظریاتی اور عسکری محاذ میں تبدیل کر دیا۔ “وار آن ٹیرر” کا نعرہ لگا کر جہاں ایک طرف مسلم اقلیتوں کے گرد نفرت کا شکنجہ کسا گیا، وہیں دوسری طرف جغرافیائی سرحدوں کو پامال کرتے ہوئے خطوں کے خطے تاراج کر دیے گئے۔

اسلاموفوبیا: نفرت کا باقاعدہ فکری و ریاستی محاذ

نائن الیون کے ملبے سے اٹھنے والے دھوئیں نے مغربی معاشروں میں مسلمانوں کے خلاف ایک منظم مہم کی راہ ہموار کی۔ وہ مسلم کمیونٹی جو دہائیوں سے مغربی ممالک کی معاشی اور سماجی ترقی میں پرامن کردار ادا کر رہی تھی، راتوں رات شک اور نفرت کی زد میں آ گئی۔ ایف بی آئی کے مطابق صرف سال 2001ء کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں سترہ گنا سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مساجد کی بے حرمتی، باحجاب خواتین پر حملے، روایتی اسلامی لباس پہننے والے مردوں کے ساتھ نازیبا سلوک اور بلا جواز تلاشیوں کا سلسلہ عام ہو گیا۔ حد تو یہ ہوئی کہ داڑھی یا مشرقِ وسطیٰ کے خدوخال رکھنے کی پاداش میں سکھ اور دیگر اقلیتیں بھی اس اندھی نفرت کا شکار بنیں۔

مغرب نے ایک نپے تلے بیانیے کے تحت دہشت گردی کو مذہبِ اسلام کے ساتھ نتھی کر کے پیش کیا۔ اس پالیسی کے تحت لاکھوں باوقار مسلم شہریوں کو مسلسل نگرانی، بلا جواز پروفائلنگ اور سماجی بائیکاٹ کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی یہ زہر مغربی سیاست اور عوامی شعور سے ختم نہیں ہو سکا۔ آج بھی مسلمانوں کو مغربی دارالحکومتوں میں اپنی وفاداری اور حب الوطنی کے مستقل امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسلاموفوبیا محض خوف کا نام نہیں رہا بلکہ یہ ایک ایسا ہتھیار بن گیا جس کے ذریعے مسلم دنیا کے خلاف عسکری کارروائیوں اور ان کے وسائل پر قبضے کو مغربی رائے عامہ کے سامنے جائز ثابت کیا گیا۔

افغانستان پر یلغار اور امریکی انخلا کی تاریخی ناکامی

نائن الیون کے اصل مجرموں کی تلاش کے بہانے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 2001ء میں افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ مقصد القاعدہ کا خاتمہ اور طالبان کی حکومت کا تختہ الٹنا بتایا گیا، لیکن یہ مہم جلد ہی نہ ختم ہونے والی قبضے کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ امریکہ نے اکیس سال تک خطے میں کھربوں ڈالر جھونکے، جدید ترین اسلحے، ڈرونز اور نیٹو افواج کا بے دریغ استعمال کیا گیا، لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں کی جانیں گئیں اور ایک پورا ملک ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

اکیس سالہ عسکری جارحیت اور طویل خونریزی کے بعد واشنگٹن کے ہاتھ کیا آیا؟ صفر۔ اگست 2021ء میں امریکی فوجیں جس عجلت اور افراتفری کے عالم میں کابل کے ہوائی اڈے سے بھاگیں، وہ جدید عسکری تاریخ کی بدترین ناکامیوں میں شمار ہوئی۔ دو دہائیوں کی جنگ اور وسائل کی بے پناہ بربادی کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں اپنے کسی بھی بنیادی سیاسی یا تزویراتی مقصد کو حاصل نہ کر سکا، اور اقتدار واپس انہی ہاتھوں میں چلا گیا جنہیں مٹانے کا دعویٰ لے کر وہ آیا تھا۔ اس ناکام مہم نے ثابت کر دیا کہ بیرونی مسلط کردہ جنگیں خطوں کو تباہی اور انتشار کے سوا کچھ نہیں دیتیں۔

پاکستان کی لازوال قربانیاں

امریکہ کی مسلط کردہ اس جنگ کا سب سے بھاری اور دردناک خمیازہ پاکستان نے بھگتا۔ فرنٹ لائن اتحادی بننے کے فیصلے کے بعد پاکستان براہِ راست بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا۔ وہ ملک جو امن اور ترقی کی راہ پر گامزن تھا، اندرونی انتشار، دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا میدان بن گیا۔ کراچی کے بازاروں، پشاور کی گلیوں اور کوئٹہ کے چوراہوں پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔ مساجد، جنازے، تعلیمی ادارے اور سیکیورٹی چیک پوسٹیں خودکش حملوں کی زد میں آ گئیں۔ بیرونی ایما پر کام کرنے والے انتہا پسند نیٹ ورکس اور ٹی ٹی پی نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔

پاکستان نے دہشت گردی کے اس ناسور کے خاتمے کے لیے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے تاریخی اور وسیع آپریشنز کیے، جن کے دوران قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورکس کو اکھاڑ پھینکا گیا۔ تاہم اس جنگ کی قیمت پاکستان کے لیے ناقابلِ تلافی تھی۔ ریاست کے 80 ہزار سے زائد معصوم شہری، پولیس اور مسلح افواج کے جوان شہید ہوئے۔ ملکی معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا ناقابلِ تلافی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ مغرب کی نام نہاد 20 ارب ڈالر کی امداد اس تباہی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ غیروں کی شروع کی گئی جنگ کا ملبہ پاکستان پر گرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملک دہائیوں تک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔

نائن الیون کے بعد شروع ہونے والا کھیل درحقیقت مسلم دنیا کے وسائل، خطوں اور امن کو مفلوج کرنے کی ایک کھلی سازش تھی۔ مغرب نے اندرونِ ملک اسلاموفوبیا کو پروان چڑھا کر مسلمانوں کو دیوار سے لگایا اور بیرونِ ملک جنگیں چھیڑ کر افغانستان اور پاکستان جیسے ممالک کو بارود کے ڈھیر میں بدل دیا۔ تاریخ نے یہ فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ طاقت کے نشے میں شروع کی گئی جنگیں ہمیشہ ناکامی پر ختم ہوتی ہیں، اور پاکستان کے عوام و افواج نے اپنے خون سے وہ جنگ لڑی جو دراصل ان کی تھی ہی نہیں۔

دیکھیے: سات ستمبر 1974: تحفظِ ختمِ نبوتؐ کا تاریخ ساز دن

متعلقہ مضامین

سنٹرل کرم کے علاقے تاتنگ درہ میں فورسز نے کارروائی کر کے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک مغوی ایس ایچ او کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

September 9, 2026

اسلام آباد کی عدالت نے مینا خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے ان کا پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

September 9, 2026

نائن الیون کے 25 برس بعد بھی امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب برقرار ہے۔ ایک نئی رپورٹ نے اہم حقائق ظاہر کیے ہیں۔

September 9, 2026

نئے صوبے پاکستان کی ترقی کو تیز کر سکتے ہیں، مگر اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی، مالی وسائل اور سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔

September 9, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *