ذرا تصور کریں کہ ایک عام شہری کو اپنے علاقے کے معمولی سے مسئلے کے لیے بھی سینکڑوں کلومیٹر دور صوبائی دارالحکومت کا رخ نہ کرنا پڑے۔ ہسپتال، یونیورسٹی، سرکاری دفاتر اور ترقیاتی منصوبے اس کے گھر کے قریب ہوں، فیصلے اس کے علاقے کی ضروریات کے مطابق ہوں اور حکومت اس کی آواز تک براہِ راست پہنچ سکے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبوں کا قیام پاکستان کو اس سمت لے جا سکتا ہے؟
پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ ملک کے بڑے صوبوں میں وسیع رقبے، بڑھتی ہوئی آبادی اور مختلف علاقوں کی الگ الگ ضروریات کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کئی پسماندہ علاقوں کے عوام یہ شکایت کرتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں اور حکومتی سہولیات کی توجہ بڑے شہروں تک محدود رہ جاتی ہے۔ ایسے میں نیا صوبہ ایک ایسا انتظامی ماڈل بن سکتا ہے جہاں فیصلے مقامی سطح پر کیے جائیں اور عوام کو حکومت تک رسائی آسان ہو۔
نئے صوبے کا سب سے بڑا فائدہ ترقی اور انتظامی بہتری ہو سکتا ہے۔ ایک چھوٹے انتظامی یونٹ کے پاس اپنے علاقے کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے مطابق بجٹ بنانے کے زیادہ مواقع ہوں گے۔ نئے ہسپتال، اسکول، یونیورسٹیاں، سڑکیں، صنعتیں اور روزگار کے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ اگر وسائل اور اختیارات مناسب انداز میں تقسیم کیے جائیں تو نئے صوبے پاکستان کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس کا ایک اور فائدہ مقامی نمائندگی ہے۔ جب کسی علاقے کے لوگوں کو اپنی صوبائی حکومت، اسمبلی اور انتظامی ادارے میسر ہوں تو ان کے مسائل براہِ راست فیصلہ سازی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اس سے احساسِ محرومی کم کرنے اور ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
لیکن ہر فائدے کے ساتھ کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے نئے سرکاری محکمے، اسمبلی، سیکریٹریٹ اور انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی، جس پر اربوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں۔ اگر صوبہ مالی طور پر خود کفیل نہ ہو تو قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے صوبوں کی تشکیل زبان، نسل یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ہونے لگے تو معاشرتی تقسیم اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
ایک اور اہم سوال وسائل کی تقسیم کا ہے۔ پانی، گیس، بجلی، زمین، ملازمتوں اور مالی وسائل کی تقسیم پر نئے صوبوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔ اس لیے صرف نقشے پر نئی سرحد کھینچ دینا کافی نہیں؛ اس کے لیے واضح آئینی طریقہ کار، مالی منصوبہ بندی اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی ضروری ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ نیا صوبہ پاکستان کی ترقی کا شارٹ کٹ نہیں، لیکن درست منصوبہ بندی کے ساتھ یہ ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ ضرور بن سکتا ہے۔ اگر مقصد عوام کو بہتر حکمرانی، مساوی مواقع، تیز رفتار ترقی اور مؤثر نمائندگی فراہم کرنا ہو تو نئے صوبے پاکستان کے انتظامی نظام کو مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ فیصلہ صرف سیاسی مفادات، اقتدار کی تقسیم یا علاقائی جذبات کو ہوا دینے کے لیے کیا جائے تو فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہو سکتا ہے۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہونے چاہئیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا موجودہ نظام ہر پاکستانی کو اس کے گھر کی دہلیز پر انصاف، ترقی اور بنیادی سہولیات فراہم کر پا رہا ہے؟ اگر جواب نہیں ہے، تو نئے صوبوں پر سنجیدہ، غیر جانب دار اور قومی مفاد پر مبنی بحث وقت کی اہم ضرورت ہے