لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی اپیل مسترد: آزاد کشمیر بھر میں دکانیں اور دفاتر کھلے رہے

عوامی ایکشن کمیٹی کی آزاد کشمیر ہڑتال کی کال ناکام ہو گئی۔ مظفرآباد اور میرپور سمیت تمام اضلاع میں معمولاتِ زندگی بلا تعطل جاری رہے۔
آزاد کشمیر ہڑتال پر کھلے بازار

آزاد کشمیر ہڑتال کی کال مکمل طور پر بے اثر رہی۔ ریاست بھر میں تجارتی مراکز کھلے رہے اور ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔

September 9, 2026

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی آزاد کشمیر ہڑتال کی کال مکمل طور پر بے اثر ثابت ہوئی ہے۔ ریاست کے تمام دس اضلاع میں کاروباری مراکز اور تجارتی مارکیٹیں معمول کے مطابق کھلی رہیں۔ اس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ اور نجی گاڑیاں بھی سڑکوں پر بلا تعطل رواں دواں رہیں۔

عوام اور تاجر برادری نے پہیہ جام ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس لیے معمولاتِ زندگی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ شہریوں نے انتشار کے بجائے امن کو ترجیح دی۔

میرپور ڈویژن میں تجارتی سرگرمیاں

میرپور، کوٹلی اور بھمبر میں تمام بڑے بازار کھلے رہے۔ شہر کے نانگی روڈ اور چوک شہیداں میں خریداروں کی آمد جاری رہی۔ اس کے علاوہ سبزی منڈیوں، سپر اسٹورز اور ورکشاپس پر معمول کے مطابق کام ہوا۔

کوٹلی کے علاقوں نکیال، سہنسہ اور چڑھوئی میں بھی دکانیں کھلی رہیں۔ تاہم کہیں بھی زبردستی کاروبار بند کرانے کی کوشش نہیں دیکھی گئی۔ کیونکہ عوام نے پرامن ماحول برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دارالحکومت مظفرآباد، نیلم، باغ اور حویلی کے بازاروں میں بھی رونقیں برقرار رہیں۔ ہوٹلوں، مارکیٹوں اور کریانہ اسٹورز میں خریداروں کا رش معمول کے مطابق رہا۔ اس کے بعد تمام سرکاری اور نجی دفاتر میں حاضری معمول پر رہی۔

شہریوں نے ہڑتال کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا۔ چنانچہ روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔ تجارتی تنظیموں نے معمول کا کاروبار جاری رکھنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انتظامیہ کے سکیورٹی اقدامات

ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ نے امن برقرار رکھنے کے لیے سخت انتظامات کیے۔ حساس چوکوں اور اہم شاہراہوں پر پولیس دستے تعینات رہے۔ اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گشت کے نظام کو مزید موثر بنایا۔

لہٰذا عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ تاجر برادری نے امن و امان قائم رکھنے پر ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کو خوب سراہا۔

شہریوں کی جانب سے پرامن رویے کے باعث شرپسند عناصر کو انتشار پھیلانے کا موقع نہ مل سکا۔ اس لیے ریاست بھر میں قانون اور امن کی بالادستی قائم رہی۔

چنانچہ عوام کی عدم دلچسپی سے ثابت ہوا کہ لوگ ترقی اور امن چاہتے ہیں۔ اس طرح عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی آزاد کشمیر ہڑتال مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *