بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے مسلسل دباؤ کے باعث کالعدم تنظیموں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ کالعدم بی ایل ایف دہشت گرد تنظیم نے فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں میں اپنے 10 ارکان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں تسلیم کیا ہے کہ یہ تمام افراد سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مارے گئے۔ اس کے بعد کالعدم تنظیم کے نیٹ ورک کو بلوچستان میں شدید تنظیمی نقصان پہنچا ہے۔
کالعدم گروپ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اہم فیلڈ کمانڈرز شامل تھے۔ اس کارروائی کے دوران اختر داؤد عرف علی شیر اور خلیل احمد عرف استاد اویس مارے گئے۔
اس کے علاوہ تنظیم کے اہم کارندے عمران عرف اجو اور حاصل عرف منیر احمد بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔ کیونکہ سکیورٹی فورسز نے ان کے خفیہ ٹھکانوں پر گھیرابندی کر کے کارروائیاں کی تھیں۔
جھڑپوں اور کارروائیوں کی تفصیلات
تنظیم کے مطابق یہ ہلاکتیں مختلف علاقوں میں فورسز کے ساتھ آمنے سامنے کے مقابلوں میں ہوئیں۔ تاہم عسکریت پسند فورسز کی موثر جوابی کارروائی کا سامنا نہ کر سکے۔
چنانچہ ان اہم ارکان کے مارے جانے سے تنظیم کی سرگرمیوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اس لیے علاقے میں تخریبی کارروائیوں کا نیٹ ورک مفلوج ہو چکا ہے۔
سکیورٹی فورسز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مسلسل آپریشن کر رہی ہیں۔ لہٰذا دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے تیزی سے ختم کیے جا رہے ہیں۔
لیکن فورسز نے واضح کیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ اس کے بعد حساس علاقوں میں سرچ آپریشنز اور نگرانی کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
دیکھیے: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 11 دہشت گرد ہلاک