اسلام آباد: پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی حالیہ ہدایت کو قومی امیگریشن پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ملکی طلبہ کے داخلوں اور ویزوں پر قواعد کا اطلاق امتیازی سلوک نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ریاست کو اپنی سلامتی اور بارڈر پالیسی نافذ کرنے کا پورا اختیار ہے۔
قومی سلامتی کے تحت حکومتیں ایسے اقدامات کرتی رہتی ہیں۔ اس لیے اس فیصلے کو تنہا ادارے کا اقدام نہیں کہا جا سکتا۔
دنیا بھر میں ریاستیں غیر ملکی شہریوں کے لیے پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں۔ سنہ 2017 کے خلیجی بحران میں قطری طلبہ اس سے متاثر ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یورپی ممالک نے بھی روسی شہریوں پر پابندیاں لگائیں۔
تاہم یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ تعلیم کا حق امیگریشن قوانین سے مشروط ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ریاست غیر مشروط اجازت نہیں دیتی۔
قانونی حیثیت بنیادی شرط
اس معاملے کا اصل محور کسی کی قومیت نہیں بلکہ قانونی دستاویزات ہیں۔ پاکستان میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کے پاس درست ویزا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد کوئی بھی غیر قانونی شہری محض داخلے کی بنیاد پر حق کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
تعلیمی ادارے ملکی قوانین سے بالاتر ہو کر کام نہیں کر سکتے۔ چنانچہ پیشہ ورانہ ڈگری کے لیے بھی قانونی رہائش ضروری ہے۔
انسانی ہمدردی اور قانون کا توازن
جو طلبہ پہلے سے پڑھ رہے ہیں، ان کے لیے عبوری اقدامات ممکن ہیں۔ لیکن ایسے اقدامات کو امیگریشن قوانین سے مکمل استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے ہر معاملہ قانون کے دائرے میں رہ کر ہی حل ہوگا۔
نگران ادارہ وفاقی حکومت کی وضع کردہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ لہٰذا پی ایم ڈی سی کو تنقید کا تنہا ہدف بنانا درست نہیں۔
پاکستان کو اپنی سرحدوں اور ویزا پالیسی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا خود مختار حق ہے۔ اس دوران قانونی دستاویزات رکھنے والے افراد کی تعلیم پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔
چنانچہ درست ویزا رکھنے والے غیر ملکی طلبہ بغیر کسی رکاوٹ کے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں صرف قانونی امیگریشن کو یقینی بنانا ہے۔