عالمی میڈیا اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے افغان صورتحال پر بڑا انتباہ جاری کیا ہے۔ ریڈیو فری یورپ کی تازہ رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔
کیونکہ کابل میں طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ اس لیے القاعدہ اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ اب پاکستان کے لیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق القاعدہ اب ٹی ٹی پی کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے کو بھی کنٹرول کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں کالعدم بی ایل اے کے ساتھ بھی ان گروہوں کے باہمی رابطے سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے بھی اگست کی رپورٹ میں ان شواہد کی توثیق کی ہے۔
علاقائی منصوبوں کو خطرات
اگرچہ عالمی برادری طالبان حکومت پر پناہ گاہیں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ لیکن افغانستان میں موجود یہ نیٹ ورکس خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
کیونکہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے باعث جانی اور مالی سطح پر بھاری قیمت چکائی ہے۔ اس لیے پاکستان نے سرحد پار سے آنے والے خطرات کے خاتمے کے لیے جوابی کارروائیاں کیں۔
دفاعی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات خود دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی کے فریم ورک کے تحت کیے گئے۔ تاہم بی ایل اے کو تاحال اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکا۔
ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر افغان سرزمین کے غلط استعمال کا فوری نوٹس لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ سمیت 20 دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں: اقوام متحدہ