اسلام آباد: پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر نے کہا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان سے متعلق اپنے مؤقف میں بین الاقوامی قانون کے اہم پہلوؤں کو نظرانداز کیا ہے۔
آبزرور گارڈین میں شائع مضمون میں پروفیسر محمد منیر نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایک پیچیدہ قانونی معاملے کو سادہ انداز میں پیش کیا ہے۔ انسانی ہمدردی کے خدشات کو ریاست کے قانونی امیگریشن اختیار پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
قانونی حیثیت واضح کرنا ضروری
پروفیسر محمد منیر کے مطابق قانونی طور پر مقیم طلبہ اور غیر قانونی یا غیر تصدیق شدہ افراد کے معاملات میں واضح فرق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر معاملے میں قانونی حیثیت کی جانچ اور مناسب قانونی کارروائی ضروری ہے۔ تمام معاملات کو ایک ہی نظر سے دیکھنا بین الاقوامی قانون کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
پاکستان کو اپنے قوانین کے تحت امیگریشن سے متعلق فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم ان فیصلوں میں قانونی طریقہ کار اور متعلقہ افراد کے حقوق کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
سکیورٹی خدشات کو بھی تسلیم کرنا ہوگا
مضمون میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے معاملے پر مؤقف اختیار کرتے وقت ریاست کے سکیورٹی خدشات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
پروفیسر محمد منیر کے مطابق مؤثر انسانی حقوق کی وکالت کے لیے متوازن قانونی تجزیہ ضروری ہے۔ اس میں انسانی ہمدردی کے ساتھ ریاستی خودمختاری، قانونی اختیارات اور سکیورٹی تقاضوں کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی معاملے کا جائزہ لیتے وقت قانونی حیثیت، مناسب قانونی کارروائی اور ریاست کے اختیارات کو یکساں طور پر مدنظر رکھنا چاہیے۔