کابل میں نشر ہونے والے حالیہ ٹی وی ٹاک شوز میں طالبان کی طرزِ حکمرانی، مذہبی احکامات کے نفاذ، معاشی بحالی اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ ایک تجزیاتی جائزے کے مطابق مختلف نشریاتی پروگراموں میں افغانستان کے داخلی مسائل کے ساتھ ساتھ علاقائی سیکیورٹی پالیسیوں اور افغان طلبہ کے امور بھی نمایاں رہے۔
مباحثوں کے دوران شرکاء کا کہنا تھا کہ طالبان انتظامیہ کے اصلاحات اور انسدادِ بدعنوانی کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ قومی بجٹ اور قدرتی وسائل کے اخراج کے نظام پر کوئی آزادانہ نگرانی موجود نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ ملک کو ایک قانونی، بااختیار اور نمائندہ سیاسی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ اختیارات کے یکطرفہ ارتکاز اور بیرونی امداد پر مسلسل انحصار نے حکمرانی کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
علاقائی سفارت کاری
خارجہ امور پر گفتگو کے دوران پاکستان کے کردار پر بیانیے سامنے لائے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ پالیسیوں نے خطے کے استحکام کو متاثر کیا۔ مباحثوں میں بیجنگ کی پالیسی کا بھی ذکر ہوا، جہاں تجزیہ کاروں نے چین پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے لیے ایک خود مختار خارجہ پالیسی اختیار کرے۔
ماہرین کا مؤقف تھا کہ چین کو معدنیات اور مواصلاتی رابطوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے اور کابل سے تعلقات کو کسی تیسرے ملک کے نقطہ نظر سے دیکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔
افغان طلبہ کے ویزے
تعلیمی شعبے کے مسائل پر بات کرتے ہوئے پروگراموں میں حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ افغان طلبہ کے منسوخ شدہ ویزے بحال کرے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ طلبہ کو اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور سفارتی آداب کا خیال رکھا جائے۔ ان کے مطابق تعلیمی معاملات کو سیاست سے جوڑنے سے مستقبل کے دوطرفہ تعلقات پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔
خواتین کے حقوق
ٹاک شوز میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں۔ دوسری جانب افغانستان کو معاشی خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے خواتین کی تعلیم اور روزگار کے مواقع فوری بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ملک سے ماہر افراد کے انخلا کو روکنا، شفافیت قائم کرنا اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ناگزیر قرار دیا گیا۔
افغان میڈیا کا رجحان
حالیہ مباحثوں کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان میڈیا تقسیم کا شکار ہے۔ بعض نشریات میں حکومتی اقدامات کو درست قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر پروگراموں میں شفافیت کی کمی اور معاشی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی دوران بغیر شواہد کے ملکی ناکامیوں کا ذمہ دار بیرونی عوامل کو ٹھہرانے کا رجحان بھی نمایاں رہا