کراچی: سندھ حکومت ہر سال صحت، صفائی اور شہری سہولتوں کے لیے اربوں روپے مختص کرتی ہے، لیکن زمینی صورت حال ان دعوؤں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ اسپتالوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی، خستہ حال مراکز صحت اور سڑکوں پر کچرے کے ڈھیر عوامی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں سندھ حکومت نے صحت کے شعبے کے لیے 381.83 ارب روپے مختص کیے تھے۔ ان میں 336.46 ارب روپے سروس ڈلیوری کے لیے رکھے گئے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے بجٹ کے باوجود عام شہریوں کو بنیادی طبی سہولتیں کیوں میسر نہیں؟
ایک ماں کا نومولود بچے کے ساتھ ہسپتال کے فرش پر بیٹھنا سندھ کے صحت کے نظام کی صورتحال پر اہم سوال اٹھاتا ہے۔ جدید مشینوں اور بڑے بجٹ کے باوجود اگر مریضوں کو مناسب جگہ اور بنیادی سہولتیں نہ ملیں تو حکومتی اخراجات کی افادیت پر سوال ہونا فطری ہے۔
اسپتالوں کی حالت پر سوال
سندھ کے مختلف علاقوں میں صحت کے مراکز کی حالت بھی تشویش کا باعث ہے۔ بدین کا سول اسپتال بارش کے پانی میں ڈوبنے کی تصاویر اور رپورٹس بنیادی انتظامات پر سوال اٹھاتی ہیں۔
مریض علاج کے لیے اسپتال پہنچتے ہیں، لیکن اگر عمارت، صفائی اور دیگر بنیادی سہولتیں ہی دستیاب نہ ہوں تو صحت کے نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔
عوام کا مؤقف ہے کہ انہیں خیرات نہیں بلکہ اپنے ٹیکس اور ریاستی وسائل کے بدلے بنیادی سہولتیں درکار ہیں۔ غریب شہری بھی صاف ماحول اور بہتر علاج کا اتنا ہی حق رکھتا ہے جتنا معاشرے کا کوئی دوسرا فرد۔
کراچی میں کچرے کے ڈھیر
صحت کے ساتھ سندھ کے شہری علاقوں میں صفائی کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ کراچی میں روزانہ تقریباً 14 ہزار ٹن کچرا پیدا ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مگر شہر کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اب بھی نمایاں ہیں۔
یہ صورتحال صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری انتظام اور حکومتی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ برسوں سے جاری حکومتی دعوؤں کے باوجود اگر شہریوں کو سڑکوں پر کچرا، خستہ حال انفراسٹرکچر اور بنیادی سہولتوں کی کمی کا سامنا ہو تو عوام بجا طور پر پوچھتے ہیں کہ اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں۔
بجٹ اور زمینی حقیقت میں فرق
سندھ حکومت کے بجٹ میں عوامی فلاح کے لیے بڑی رقوم مختص کی جاتی ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق ان اخراجات کے اثرات عام شہری کی زندگی میں واضح نظر نہیں آتے۔
خستہ حال اسکول، بنیادی سہولتوں سے محروم اسپتال اور کچرے سے بھرے شہر اس فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ میں حکومتی اخراجات، منصوبوں کی تکمیل اور عوام تک سہولتوں کی فراہمی کے بارے میں شفافیت کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔
دو دہائیوں سے صوبے میں حکمرانی کرنے والی سیاسی قیادت سے بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر بجٹ مسلسل بڑھ رہا ہے تو عام سندھی کی زندگی میں اسی رفتار سے بہتری کیوں نہیں آ رہی؟
عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے مختص رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے اور اس کے نتائج ان تک کیوں نہیں پہنچ رہے۔ سندھ کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بلکہ وسائل کے مؤثر استعمال اور انتظامی کارکردگی کا سوال بھی بنتا جا رہا ہے۔