پشاور، 12 ستمبر 2026: خیبر پختونخوا حکومت آج صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پولیس ایکٹ میں نئی ترامیم پیش کرے گی۔ مجوزہ ترامیم کے تحت پولیس کے اختیارات اور کمانڈ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد ترمیمی قانون خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کی صورت میں پولیس کے انتظامی اور اہم اختیارات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ماتحت آنے کا امکان ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مئی 9 کیس کی کارروائی جاری ہے۔ آج کی سماعت کے دوران پولیس نے پی ایس ایف ایس اور نادرا رپورٹس سے متعلق درخواستیں عدالت میں پیش کی ہیں۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر مقدمے میں مزید شواہد شامل ہونے کا امکان ہے۔
پولیس اختیارات میں تبدیلی
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے پولیس کے اختیارات وزیراعلیٰ کے ماتحت کیے جا سکتے ہیں۔ بعض ذرائع اسے مئی 9 کیس کی تحقیقات کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو خدشہ ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے پر بعض حکومتی شخصیات کے نام اور دیگر شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے حکومت کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
پشاور ہائی کورٹ
یاد رہے کہ اکتوبر 2024 میں خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کی تھی۔ اس ترمیم کے ذریعے انسپکٹر جنرل پولیس کے بعض اختیارات محدود کیے گئے تھے اور وزیراعلیٰ کو پولیس سے متعلق متعدد معاملات میں اختیارات دیے گئے تھے۔
تاہم 2 فروری 2026 کو پشاور ہائی کورٹ نے ان ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے پولیس کے اختیارات اور کمانڈ سے متعلق سابقہ قانونی پوزیشن بحال کر دی تھی۔
اب صوبائی حکومت ایک مرتبہ پھر اسی نوعیت کی ترمیم لانے جا رہی ہے۔ کابینہ اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے منظوری کی صورت میں پولیس کے اختیارات کا کنٹرول دوبارہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس آنے کا امکان ہے۔
مجوزہ قانون سازی کی ٹائمنگ کو مئی 9 کیس کی موجودہ پیش رفت کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔