نئی دہلی کے معروف تجزیہ کار اور دی پرنسپل انڈیا کے ایڈیٹر اجے شکلا نے کہا ہے کہ برکس اور مودی حکومت کے شاندار سفارتی دعووں کے برعکس بھارت کو اس فورم سے ٹھوس نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ حیدر حیات خان کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی دنیا میں تشہیر کے باوجود زمینی حقائق مکمل طور پر مختلف ہیں۔
خارجہ پالیسی کے تضادات اور دباؤ
اجے شکلا کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کے حامی عالمی سطح پر قیادت کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، مگر عملی سطح پر سفارت کاری شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے ایران اور روس سے جڑے اسٹریٹجک مفادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے دباؤ کے سامنے خودمختار خارجہ پالیسی کو برقرار رکھنا بھارت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اس صورتحال نے نئی دہلی کے روایتی سفارتی تعلقات اور اسٹریٹجک خود مختاری پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔
تجارتی عدم توازن اور معاشی حقائق
معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اجے شکلا نے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق بھارت بیجنگ کی مصنوعات کے لیے ایک بڑی کھپت گاہ بن چکا ہے، جس سے مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے حکومتی ترقیاتی اعداد و شمار کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی پیداواری شعبے زوال کا شکار ہیں اور جی ڈی پی کی ترقی کے فوائد عام شہریوں تک نہیں پہنچ رہے۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری
ملک کے اندرونی بحران کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی صحافی نے ملازمتوں کے سنگین فقدان کو اجاگر کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پی ایچ ڈی اور ماسٹرز ڈگری یافتہ نوجوان نچلے درجے کی ملازمتوں اور چپڑاسی کی اسامیوں کے لیے درخواستیں دینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ رجحان ملکی تعلیمی اور معاشی نظام کی ساختی ناکامی کی واضح علامت ہے۔
مجموعی جائزہ اور زمینی چیلنجز
اجے شکلا نے زور دیا کہ خارجہ محاذ پر نعرے بازی اور تشہیر کے ذریعے داخلی بحرانوں کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جا سکتا۔ بھارت کو اپنے حقیقی مسائل کے حل کے لیے غیر متوازن تجارتی پالیسیوں کو درست کرنے اور تعلیم یافتہ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔