پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کے حالیہ بیانات پر عوامی اور عسکری تجزیہ کاروں کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی ہے۔ ناقدین کے مطابق منظور پشتین کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور منفی نعرے بازی دراصل ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔
رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران مخصوص نعروں کے استعمال کی ہدایت پر مختلف حلقوں نے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا بیانیہ انسانی حقوق کا تحفظ نہیں بلکہ ملک کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا پروپیگنڈا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم تنظیموں کی دہشت گردی پر خاموشی اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔
بیرونی روابط اور مالی معاونت
جاری کردہ بیانیے میں پی ٹی ایم کی قیادت پر بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ مبینہ روابط اور مالی مدد حاصل کرنے کے الزامات بھی دہرائے گئے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس تحریک کی سرگرمیاں بیرونی ایجنڈے کے تحت ملکی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
ردِعمل میں واضح کیا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ان قربانیوں میں تمام قومیتوں کے جوان شامل رہے ہیں جنہوں نے ملکی امن کی خاطر فرنٹ لائن پر خدمات انجام دی ہیں۔
سیاسی و سیکیورٹی مبصرین کا ماننا ہے کہ شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس قسم کے بیانیوں کو ملکی قانون اور آئین کے خلاف اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
دیکھیے: فتنہ الخوارج کے جعلی حملوں کے دعوے، پراپیگنڈا مہم بے نقاب