طالبان کی قیادت میں ایک بار پھر اندرونی اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق قندھار دھڑے کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ، طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو گرفتار کرکے قید کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
مبینہ طور پر ہیبت اللہ اخوندزادہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کے قریب سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سراج الدین حقانی کو اپنی گرفتاری کے مبینہ منصوبے کا پہلے ہی علم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق حقانی نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کی کوئی بھی کوشش طالبان حکومت کے لیے سنگین بحران پیدا کرسکتی ہے۔
مبینہ طور پر حقانی نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایسی کارروائی طالبان نظام کے خاتمے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔
ملا ہیبت اللہ کو تنبیہ
ذرائع کے مطابق طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق، ملا تاج میر جواد اور صدر ابراہیم نے بھی ہیبت اللہ اخوندزادہ کو خبردار کیا ہے۔
مبینہ طور پر ان رہنماؤں نے سراج الدین حقانی کے خلاف کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقانی کی گرفتاری سے طالبان کے اندر طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کے نتیجے میں حکومت کو قبل از وقت بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان حکومت کے انہدام کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
ہیبت اللہ حقانی اہم حریف
دوسری جانب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہبت اللہ اخوندزادہ اب بھی سراج الدین حقانی کو اپنا اہم حریف سمجھتے ہیں۔ مبینہ طور پر وہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔
طالبان کے قندھاری دھڑے اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان طاقت اور اثر و رسوخ کے اختلافات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ تاہم سراج الدین حقانی کی گرفتاری یا انہیں ختم کرنے کے مبینہ منصوبے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اگر یہ کشیدگی عملی محاذ آرائی میں تبدیل ہوتی ہے تو طالبان کی داخلی یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے موجودہ اقتدار کے ڈھانچے پر بھی اہم اثرات پڑ سکتے ہیں۔
دیکھیے: پانچ افغان صوبوں میں مزاحمت تیز، طالبان رجیم پر دباؤ بڑھ گیا