لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

طالبان میں اقتدار کی جنگ تیز، ہیبت اللہ کا سراج الدین حقانی کو گرفتار کرنے کا منصوبہ

طالبان میں اندرونی اختلافات کی اطلاعات، ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے سراج الدین حقانی کو گرفتار کرنے پر غور کا دعویٰ سامنے آگیا۔
طالبان میں اختلافات، سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر غور

طالبان میں اندرونی اختلافات کی اطلاعات، ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے سراج الدین حقانی کی گرفتاری پر غور کا دعویٰ سامنے آگیا۔

September 15, 2026

طالبان کی قیادت میں ایک بار پھر اندرونی اختلافات شدت اختیار کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق قندھار دھڑے کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ، طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو گرفتار کرکے قید کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

مبینہ طور پر ہیبت اللہ اخوندزادہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کے قریب سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سراج الدین حقانی کو اپنی گرفتاری کے مبینہ منصوبے کا پہلے ہی علم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی۔

ذرائع کے مطابق حقانی نے ہیبت اللہ اخوندزادہ کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاری کی کوئی بھی کوشش طالبان حکومت کے لیے سنگین بحران پیدا کرسکتی ہے۔

مبینہ طور پر حقانی نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایسی کارروائی طالبان نظام کے خاتمے کا خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔

ملا ہیبت اللہ کو تنبیہ

ذرائع کے مطابق طالبان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق وثیق، ملا تاج میر جواد اور صدر ابراہیم نے بھی ہیبت اللہ اخوندزادہ کو خبردار کیا ہے۔

مبینہ طور پر ان رہنماؤں نے سراج الدین حقانی کے خلاف کارروائی سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حقانی کی گرفتاری سے طالبان کے اندر طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کے نتیجے میں حکومت کو قبل از وقت بحران کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان حکومت کے انہدام کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

ہیبت اللہ حقانی اہم حریف

دوسری جانب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہبت اللہ اخوندزادہ اب بھی سراج الدین حقانی کو اپنا اہم حریف سمجھتے ہیں۔ مبینہ طور پر وہ انہیں راستے سے ہٹانے کے لیے مناسب موقع کی تلاش میں ہیں۔

طالبان کے قندھاری دھڑے اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان طاقت اور اثر و رسوخ کے اختلافات پہلے بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ تاہم سراج الدین حقانی کی گرفتاری یا انہیں ختم کرنے کے مبینہ منصوبے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

اگر یہ کشیدگی عملی محاذ آرائی میں تبدیل ہوتی ہے تو طالبان کی داخلی یکجہتی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے موجودہ اقتدار کے ڈھانچے پر بھی اہم اثرات پڑ سکتے ہیں۔

دیکھیے: پانچ افغان صوبوں میں مزاحمت تیز، طالبان رجیم پر دباؤ بڑھ گیا

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *