وانا میں دہشتگرد گروہوں کے درمیان جھڑپ کے دوران دو اہم شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ لوئر وانا کے علاقے کرزئی پل کے قریب پیش آیا۔
ذرائع کے مطابق دہشتگرد گروہوں کے مابین اچانک شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں دہشتگرد سہیل مغل خیل موقع پر ہی مارا گیا۔
اس تصادم کے دوران گل بہادر گروپ کا اہم کمانڈر نصیر وزیر شدید زخمی ہو گیا تھا۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ نصیر وزیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں دم توڑ گیا۔
جھڑپ کے دوران دونوں اطراف سے متعدد دیگر دہشتگردوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ علاقے میں اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
اثر و رسوخ کی جنگ
دہشتگردوں کے مابین یہ تصادم ان کے اندرونی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ مختلف دھڑوں کے درمیان طاقت اور اثر و رسوخ کے حصول کے لیے رسہ کشی عروج پر پہنچ چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اہم کمانڈر کی ہلاکت سے متعلقہ گروہ کا کنٹرول بری طرح متاثر ہو گا۔ اس سے شدت پسند تنظیم کی قیادت اور نیٹ ورک کا توازن بکھرنے کا قوی امکان ہے۔
تنظیمی یکجہتی کو شدید دھچکا
وانا کا یہ خونریز واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ شدت پسند نیٹ ورکس باہمی رقابت کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کی آپسی چپقلش مسلسل خون خرابے کا سبب بن رہی ہے۔
اندرونی لڑائی اور بڑھتے ہوئے تنازعات ان نیٹ ورکس کو شدید کمزور کر رہے ہیں۔ اس کشمکش کی وجہ سے دہشتگردوں کی تنظیمی صلاحیت اور مجموعی اثر روز بروز گھٹ رہا ہے۔
دیکھیے: فتنہ الہندوستان سے گٹھ جوڑ: بی وائی سی کے کارندے نے تمام راز اگل دیے