افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے روابط ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک تصویر نے اس بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
تصویر میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو حسن بن لادن کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ حسن بن لادن کو القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کا پوتا بتایا جاتا ہے۔
اس تصویر کو افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے قریبی تعلقات کی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق حسن بن لادن، اسامہ بن لادن کے بیٹے سعد بن لادن کا بیٹا ہے۔
حسن بن لادن کی والدہ بی بی زہرا بتائی جاتی ہیں۔ وہ طالبان کے بانی ملا محمد عمر کی دوسری اہلیہ سے پیدا ہونے والی سب سے چھوٹی بیٹی ہیں۔
اس طرح حسن بن لادن کا تعلق القاعدہ اور طالبان کے دونوں اہم خاندانوں سے جوڑا جاتا ہے۔
الفاروق کیمپ میں ذمہ داری
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حسن بن لادن القاعدہ کے الفاروق کیمپ سے وابستہ ہے۔ اسے کیمپ کا ہیڈ ٹرینر بھی بتایا گیا ہے۔
الفاروق کیمپ افغانستان میں القاعدہ کے اہم تربیتی مراکز میں شمار ہوتا رہا ہے۔ یہ وہی کیمپ ہے جہاں 9/11 حملوں سے پہلے کم از کم سات سعودی ہائی جیکرز کے تربیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
طالبان اور القاعدہ کے تعلقات
ان معلومات نے افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی اور طالبان سے اس کے تعلقات پر بحث دوبارہ شروع کردی ہے۔
طالبان القاعدہ سے تعلقات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ تاہم افغانستان میں القاعدہ کے نیٹ ورکس سے متعلق سوالات مسلسل سامنے آتے رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بھی افغانستان میں القاعدہ کی سرگرمیوں اور تربیتی مراکز سے متعلق معلومات سامنے آ چکی ہیں۔ طالبان نے ایسے دعووں کو مسترد کیا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد اور حسن بن لادن کی سامنے آنے والی تصویر نے اس معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔
افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے روابط خطے کی سکیورٹی کے لیے اہم معاملہ ہیں۔ عالمی سطح پر دہشتگردی کے خلاف کوششوں کے تناظر میں بھی اس تعلق پر نظر رکھی جاتی ہے۔
دیکھیے: حمزہ بن لادن زندہ، افغانستان میں موجودگی کی اہم خبر سامنے آگئی