خضدار میں 16 سالہ طالبہ سدرا کے مبینہ اغوا سے متعلق دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔ تاہم واقعے کے حوالے سے آزادانہ تصدیق، سرکاری بیان یا عدالتی طور پر ثابت شدہ حقائق سامنے نہیں آئے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اللہ بخش کی 16 سالہ بیٹی سدرا کو 11 ستمبر کو خضدار کے ختن گرلز ہائی اسکول سے مسلح افراد مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ دعوے کے مطابق طالبہ تاحال لاپتا ہے۔
سوشل میڈیا دعوے اور حقائق
اس واقعے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی واقعے کو جبری گمشدگی یا اغوا قرار دینے سے پہلے پولیس تحقیقات اور قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔
ماضی میں بھی گمشدگی کے بعض واقعات کو تصدیق سے قبل سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا۔ محل کیس میں بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آئے تھے۔
ہر لاپتا شخص کے معاملے کو فوری طور پر جبری گمشدگی قرار دینا دیگر ممکنہ عوامل کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ ان عوامل میں جرائم، ذاتی تنازعات یا دہشت گرد گروہوں سے وابستگی شامل ہو سکتی ہے۔
سکیورٹی فورسز سے متعلق دعوے
دستیاب بیانیے کے مطابق مبینہ واقعے کے وقت علاقے میں سکیورٹی فورسز موجود نہیں تھیں۔ اس لیے واقعے کو سکیورٹی فورسز سے منسوب کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد اور آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
دوسری جانب سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ٹیگ کرکے معاملے پر فوری توجہ دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم تاحال کسی عدالت سے تصدیق شدہ حقیقت یا آزادانہ تحقیقات کا نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
قانونی راستہ ہی حل
لاپتا افراد کے حقیقی معاملات کو قانونی طریقہ کار کے تحت اٹھایا جانا چاہیے۔ پولیس تحقیقات، شواہد اور عدالت ہی کسی واقعے کی اصل نوعیت اور ذمہ داری کا تعین کر سکتے ہیں۔
بلوچستان میں دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں اور بھرتی کی سرگرمیوں کو نظر انداز کرکے صرف منتخب واقعات کو نمایاں کرنا بھی صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
حقیقت تک پہنچنے کے لیے قانون کی حکمرانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا مہمات حقائق کے تعین یا انصاف کے قانونی عمل کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔