لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بی ایل اے: بلوچوں کے اصل دشمن، سڑکیں اور روزگار نشانے پر

بی ایل اے کی کارروائیوں سے خاران میں سڑک اور ماشکیل میں معاشی سرگرمی متاثر ہوئی، جس کا نقصان براہِ راست عام شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔
بی ایل اے دہشت گردی، سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے نشانے پر

خاران اور ماشکیل میں بی ایل اے کی کارروائیوں سے سڑک، آمدورفت اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جس کا نقصان عام بلوچ شہریوں کو پہنچ رہا ہے۔

September 15, 2026

خاران کے علاقے آری کلاگ کے قریب بی ایل اے کے دہشت گردوں نے چوری کی گئی مشینری استعمال کرتے ہوئے سڑک کو نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی سے مقامی آبادی کی آمدورفت، تجارت اور روزمرہ معمولات متاثر ہوئے۔

بی ایل اے کے دہشت گرد بلوچستان میں ان بنیادی ڈھانچے اور معاشی سرگرمیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو مختلف علاقوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور مقامی لوگوں کے لیے ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔

سڑکیں اور ترقیاتی منصوبے

دہشت گرد پہلے سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھتی ہیں اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے بعد انہی مشکلات کو ریاست کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق 6 اور 7 ستمبر 2026 کو سکیورٹی فورسز نے خاران میں سڑک بند کرکے ٹریفک معطل کرنے کی دہشت گردوں کی کوشش ناکام بنائی۔ کارروائی کے دوران دھماکا خیز مواد برآمد ہوا جبکہ متعدد دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

معاشی سرگرمی متاثر

ماشکیل میں بھی بی ایل اے نے لیتھیم تلاش کے مقام پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ حملے میں چار ڈرلنگ مشینیں اور پانچ گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔

اس طرح کی کارروائیوں سے صرف کسی ایک منصوبے کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ مقامی سطح پر معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ سڑکیں تباہ ہونے، ٹریفک رکنے اور مشینری جلنے کا براہِ راست اثر عام شہریوں کی زندگی اور روزگار پر پڑتا ہے۔

یہ واقعات ایک واضح رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی ایل اے ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، آمدورفت اور معاشی سرگرمیوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کو بعد میں ریاست کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ریاست بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے، رابطہ سڑکوں، تعلیم، صحت اور معاشی مواقع کے منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم دہشت گردی کی کارروائیاں ان کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔

جو عناصر عوامی سڑکیں تباہ کریں، ٹریفک روکیں اور معاشی منصوبوں کی مشینری جلائیں، ان کارروائیوں کا نقصان براہِ راست بلوچ عوام کو پہنچتا ہے۔ ایسے عناصر ترقی اور خوشحالی کی بات نہیں کر سکتے جبکہ ان کی کارروائیاں مقامی آبادی کے مستقبل اور روزگار کو متاثر کر رہی ہوں۔

بلوچستان میں ترقی، رابطوں اور معاشی سرگرمیوں کا عمل جاری رکھنے کے لیے ریاستی کوششیں جاری ہیں۔ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے ان سرگرمیوں کو مستقل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔

دیکھیے: خضدار میں 16 سالہ طالبہ کے مبینہ اغوا کا دعویٰ، حقائق کی تصدیق ضروری قرار

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *